نشر من طرف editor في 26 January 2012
فوج سے میرے تعلقات خراب نہیں، ہو سکتا ہے کہ عام خیال ہو کہ ایسا ہے لیکن ایسا نہیں ہے: وزیراعظم گیلانی
پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی فوج کی جانب سے تختہ الٹنے کی تیاری کی باتوں میں کوئی صداقت ہے۔
انہوں نے یہ بات سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں بی بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ وزیراعظم عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے ڈیووس پہنچے ہیں۔
وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ ملک میں قبل از وقت انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس سوال پر کیا کہ وہ حقیقتاً ’انچارج‘ ہیں، پاکستان کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’یقیناً ایسا ہے۔ میں فوج سے خطرہ محسوس نہیں کرتا اور فوج کی جانب سے بغاوت کی باتوں میں صداقت نہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہونے کی باتیں بےبنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عوام، خفیہ ادارے، سول سائٹی، پارلیمان، میڈیا سب جمہوریت چاہتے ہیں۔ فوج بھی جمہوریت کی حامی ہے۔ اس لیے پاکستان میں جمہوریت کو خطرہ نہیں‘۔
اس سوال پر کہ کیا وہ بطور جمہوری وزیراعظم فوج کو کنٹرول کرتے ہیں، یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’درحقیقت میں آئین کی پاسداری کرتا ہوں۔ ہر کسی کو آئین کے مطابق چلنا ہے اور سبھی اس کے پابند ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’فوج سے میرے تعلقات خراب نہیں، ہوسکتا ہے کہ عام خیال ہو کہ ایسا ہے لیکن ایسا نہیں ہے‘۔
بی بی سی ورلڈ کی بندش
“ہم میڈیا کو مزید آزادی دینے کے حق میں ہیں۔ یہاں آنے سے قبل مجھے پتہ چلا کہ کچھ کیبل آپریٹرز نے ایسا کیا ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ بی بی سی پاکستان میں اپنی نشریات دکھائے۔“
وزیراعظم گیلانی
وزیراعظم کے مطابق ’پاکستان میں حکومتی اہلکاروں نے ایسے اقدامات کیے جو میرے نزدیک قواعد کے مطابق نہیں تھے اس لیے میں نے سیکرٹری دفاع کو ہٹا دیا۔گزشتہ روز جب میں یہاں آنے کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو میں نے بیان دیا کہ جو فرد ذمہ دار تھا اسے برخاست کر دیا گیا ہے اور فوج یا آئی ایس آئی کے سربراہ پر کوئی الزام نہیں لگایا جا رہا‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ان کی یا ان کے اتحادیوں کی حکومت ہے اور وہ اکثریت میں ہیں اس لیے ملک میں نئے انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ’نئے انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے پارلیمان میں اکثریت کی حمایت حاصل ہے‘۔
توہینِ عدالت کے نوٹس پر سپریم کورٹ میں پیشی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے لیے ان کے دل میں بہت احترام ہے اور ’ہم نے ہی انہیں آزاد کروایا ہے اور عدالت کے سامنے پیش ہونا
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 26 January 2012
پاکستان کے بزرگ سیاستدان اور پاکستانی فضائیہ کے پہلے پاکستانی سربراہ ریٹائرڈ ائر مارشل اصغر خان نے پاکستان کی انتخابی سیاست میں فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کردار کو کئی برسوں سے سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے لیکن نوے کے عشرے میں اسکی شنوائی ابتدائی سماعت سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ ان کا شکوہ ہے کہ وہ اپنی درخواست کی شنوائی کے لیے سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھی چار خطوط لکھ چکے ہیں لیکن آج تک کوئی جواب نہیں آیا۔
ہمارے ساتھی احمد رضا نے کچھ ہفتے پہلے اس بارے میں ان سے خصوصی انٹرویو کیا۔
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 26 January 2012
کمال خان ابوظہبی میں اٹھارہ سال سے مقیم ہیں اور ٹیکسی چلاتے ہیں۔ وہ کرکٹ کے شوقین ہیں اور شاہد آفریدی کو پسند کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ اسپاٹ فکسنگ سکینڈل نے ہر پاکستانی کو شرمندہ کردیا۔
ابوظہبی سے عبدالرشید شکور کی رپورٹ۔
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 26 January 2012
یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے اپنے تینتیس سالہ اقتدار کو خیرباد کہہ دیا ہے اور وہ علاج کے لیے ملک چھوڑ کے امریکہ چلےگئے ہیں۔
انہوں نے یمن میں اقتدار ایسے وقت میں چھوڑا ہے جب ملک میں سیاسی بحران ہے اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں ملک میں جڑیں پکڑ رہی ہیں۔
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 26 January 2012
ان معصوم مسکراتے بچوں کو یہ سفر خواب سا معلوم ہوتا ہے جو یہ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی تھیلسیمیا اور دل کی مہلک بیماری سے نبرد آزما ہے مگر ان کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوچکی ہے۔ ایک خواہش اپنے ہیرو، سلمان خان سے ملنے کی۔ کراچی سے ریاض سہیل کی رپورٹ۔
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 26 January 2012
لیبیا میں قذافی دور کے خاتمے کے تین ماہ بعد بھی مسلح گروپوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے
حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ لیبیا میں حراستی مراکز میں قید افراد پر جنگجو گروہوں کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
تنظیم کے مطابق اس نے طرابلس، مصراتہ اور دیگر شہروں میں ایسے مریض دیکھے ہیں جن کے سر، کمر اور دیگر اعضاء پر زخم موجود تھے۔
ادھر ایک اور امدادی تنظیم میڈیسن ساں فرنٹیئرز نے مصراتہ میں ایک سو پندرہ ایسے مریضوں کے علاج کے بعد اپنا آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر تشدد کیا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے ان حالات پر تشویش ہے جن میں مریضوں کو رکھا جا رہا ہے۔
ایمنٹسی کے ترجمان ڈوناٹیلا رویرا کا کہنا ہے کہ ’اس تشدد میں حکومتی سطح پر تسلیم شدہ مسلح ملیشیا کے علاوہ ایسے مسلح گروہ بھی ملوث ہیں جو کسی قانونی ڈھانچے کے تحت کام نہیں کر رہے‘۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’حراستی مراکز کو کنٹرول کرنے کے تمام وعدوں کے باوجود یہ خوفناک بات ہے کہ اب تک تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا‘۔
میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ ان کی امدادی سرگرمیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور ان کے پاس لائے جانے والے کچھ مریض حراستی مراکز سے دورانِ تفتیش لائے گئے تھے۔
“ہمارا کام تشدد کا شکار بننے والے مریضوں کا بار بار علاج کرنا نہیں بلکہ جنگ میں زخمی ہونے والوں یا بیمار قیدیوں کو طبی امداد فراہم کرنا ہے۔“
کرسٹوفر سٹوکس
تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل کرسٹوفر سٹوکس کا کہنا ہے کہ ’ہمارا کام تشدد کا شکار بننے والے مریضوں کا بار بار علاج کرنا نہیں بلکہ جنگ میں زخمی ہونے والوں یا بیمار قیدیوں کو طبی امداد فراہم کرنا ہے‘۔
انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کی اعلٰی اہلکار نوی پلے کا کہنا ہے کہ لیبیا میں مسلح گروہوں نے ساٹھ کے قریب حراستی مراکز میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد افراد کو قید کیا ہوا ہے جن میں سے بیشتر پر سابق حکمران کرنل قذافی کے وفادار ہونے کا الزام ہے۔
نوی پلے کا کہنا ہے کہ ’کسی مرکزی اتھارٹی کی جانب سے معاملے پر نظر نہ رکھنا تشدد اور برے سلوک کے ماحول کا موقع فراہم کرتا ہے‘۔
لیبیا میں قذافی دور کے خاتمے کے تین ماہ بعد بھی مختلف علاقوں میں مسلح گروپوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور لیبیا کے عبوری قائد مصطفٰی عبدالجلیل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مسلح گروپوں سے ہتھیار نہ لیے گئے تو ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 26 January 2012
لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں اب بھی ڈھائی سو کے قریب مریض زیر علاج ہیں جن میں سے ستر کی حالت نازک ہے: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن
پنجاب میں کچھ ادویات کے استعمال سے ہلاک ہونے والے دل کے مریضوں کی تعداد سو سے تجاوز کرگئی ہے اور مریضوں کی ہلاکت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پراسرار بیماری سے ہلاک ہونے والے تمام مریضوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ انہوں نے لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے علاج کرایا تھا اور وہیں سے مفت سرکاری ادویات حاصل کی تھیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اظہار چودھری کے مطابق لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں اب بھی ڈھائی سو کے قریب مریض زیر علاج ہیں جن میں سے ستر کی حالت نازک ہے اور ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
لاہور کے علاوہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں بھی اسی مرض کے شکار دل کے مریض سرکاری ہسپتالوں میں داخل ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر اظہار نے کہا کہ ادویات کے تجزیہ کی رپورٹ کا انتظار ہے اگر یہ علم ہوجائے کہ بیماری کس دوائی کی وجہ سے ہے تو اس کا توڑ نکالا جا سکتا ہے۔
میو ہسپتال کے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر ارشاد حسین قریشی کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کے گودے کی بحالی کے لیے سٹریرائڈ کے استعمال کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور اب تک پچیس سے زیادہ مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں اور باقی مریضوں کی حالت بھی سنبھل رہی ہے۔
وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو تک جاپہنچی اور مریضوں کے علاج میں غفلت اور مریضوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار افراد کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔
پنجاب اسمبلی میں صحت کے پارلیمان سیکرٹری ڈاکٹر سعید الہی نے بتایا کہ مشکوک ادویات کے نمونے تجزیے کے لیے لندن اور پیرس بھجوائے گئے ہیں اور ان کی روپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ جن پانچ ادویہ ساز اداروں کی دوا پر شک ہے ان میں سے تین کے مالکان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ دو کمپنیوں کے مالکان کراچی میں ہیں جن کی گرفتاری کے لیے سندھ حکومت سے رابطہ کیا جارہا ہے۔
ادھر لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی کمشن بنانے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے اور حکومت سمیت متعلقہ حکام کو تیس جنوری تک جواب داخل کرانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت میں درخواست دہندہ کے وکیل نے کہا کہ اب تک سوافراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن حکومت پنجاب تاحال ذمہ داروں کا تعین نہیں کرسکی اس لیے ایک عدالتی کمشن بنا کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔
پنجاب میں اپوزیشن جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 26 January 2012

امریکی محکمۂ دفاع نے ایک دہائی جاری رہنے والی جنگی مہمات کے بعد امریکی فوج میں کمی کے سلسلے میں پہلا بڑا قدم اٹھاتے ہوئے امریکی بری فوج اور میرین کور کے تقریباً ایک لاکھ فوجیوں کی نوکریوں کے خاتمے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمۂ دفاع کو آنے والے دس برس میں چار سو ستاسی ارب ڈالر کی کٹوتی کا سامنا ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے پینٹاگون کا بجٹ پانچ سو اکتیس ارب ڈالر سے کم کر کے پانچ سو پچیس ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔
جمعرات کو واشنگٹن میں فوج کی تنظیمِ نو کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ پانچ برس کے عرصے کے دوران اسّی ہزار فوجیوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا اور کچھ فوجی اڈے مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار دس میں امریکی فوجیوں کی تعداد پانچ لاکھ سّتر ہزار تھی جسے دو ہزار سترہ تک چار لاکھ نوے ہزار کر دیا جائے گا جبکہ میرین کور کے بیس ہزار فوجیوں کو نوکری سے فارغ کیے جانے کے بعد ان کی تعداد ایک لاکھ بیاسی ہزار رہ جائے گی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ’زمین پر کسی بھی دشمن کو شکست دینے کا صلاحیت برقرار رکھے گا اور خصوصی کارروائیاں کرنے والے دستوں اور ڈرونز میں اضافہ ہوگا۔
صحافیوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ نئے منصوبے کے تحت توجہ کا مرکز عراق اور افغانستان جیسی بڑے پیمانے پر لڑائیوں سے ہٹ کر اب اہم قومی معاملات ہوں گے جن کے تحت خصوصاً مشرقِ وسطٰی، ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے میں امریکی فوج کو مضبوط کیا جائے گا۔
“یہ مشکل ہوگا۔ یہ ایک مشکل چیلینج ہے۔ خسارے میں کمی کے منصوبے پر عمل میں یہ مشکل آتی ہے۔ خسارے میں کمی کے بارے میں بات کرنا آسان ہے لیکن ایسا کرنا بہت ہی مشکل۔“
لیون پنیٹا
امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کی سب سے طاقتور فوج کو برقرار رکھنا اور اسے کھوکھلا نہ ہونے دینا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ مشکل ہوگا۔ یہ ایک مشکل چیلینج ہے۔ خسارے میں کمی کے منصوبے پر عمل میں یہ مشکل آتی ہے۔ خسارے میں کمی کے بارے میں بات کرنا آسان ہے لیکن ایسا کرنا بہت ہی مشکل‘۔
بیان کے مطابق کٹوتی کے منصوبے سے ہیوی آرمرڈ یونٹ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
لیون پنیٹا کے مطابق امریکہ ایف پینتیس جیٹ طیاروں کی خریداری کا عمل جاری رکھے گا تاہم ریڈار پر نہ دکھائی دینے والے سٹیلتھ طیاروں کی خریداری کا عمل سست پڑ جائے گا۔
امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم نے اس دفاع کا اعلٰی خیال پیش کیا ہے جس کی مستقبل میں ہمیں ضرورت ہوگی اور یہ بچت کرنے کے ساتھ ساتھ کیا جائے
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 24 January 2012
مفت ادویات لینے والے تین سو پچاس مریض لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیراعلاج ہیں
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قائم ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سرکاری طور پر ملنے والی مفت دوائی کے ری ایکشن سے مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔
حکام کے مطابق غیر معیاری ادویات کے استعمال سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستر ہوگئی ہے۔
ُادھر مقامی عدالت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈرلوجی کو ادویات فراہم کرنے والی تین ادویات ساز کمپنیوں کے مالکان کو تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا ہے۔ مالکان کو منگل کی رات حراست میں لیا گیا۔
سرکاری حکام کے مطابق اب تک تین سو پچاس کے قریب ایسے مریض لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے ملنے والی مفت دوائی کا ری ایکشن ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
پنجاب حکومت نے ان ادویات کی جانچ کے لیے ان کے نمونے منگل کے روز بیرون ملک بھیج دیے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پنجاب حکومت نے ان پانچ قسم کی ادویات کے استعمال پر فوری طور پر پابندی لگا دی ہے جو عارضۂ قلب کی مریضوں کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈریالوجی میں فراہم کی جا رہی ہیں۔
پنجاب حکومت نے ان ادویات کی جانچ کے لیے ان کے نمونے منگل کے روز بیرون ملک بھیج دیے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حزب مخالف نے بھی غیر معیاری ادویات کی وجہ ہلاکتوں پر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے مستعفی ہو جائیں۔
مریضوں کے عزیزوں نے غیر معیاری ادویات کی فراہمی کے خلاف ہسپتال کے سامنےاحتجاج بھی کیا ہے
اس سے پہلے ایف آئی اے کی طرف سے عدالت کو بتایا کہ حراست میں لیے گئے تینوں مالکان کی کپمنی نے نے جو ادویات ہسپتال میں فراہم کی ہیں ان پر دوائی کی تیاری کی تاریخ اور استعمال کی مدت درج نہیں ہے اور غیر معیاری ادویات کی وجہ لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
ایف آئی اے نے عدالت سے آٹھ روز کا جسمانی ریمانڈ مانگا تاہم عدالت نے انہیں تفتش کے لیے تین روز کا ریمانڈ دیا۔
ادویات ساز کمپنیوں کی تنظیم کے عہدیداروں نے حتمی رپورٹ آنے سے قبل ہی ایک فیکڑی کو سیل کرنے کی مذمت کی اور اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ پریس
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »
نشر من طرف editor في 24 January 2012
چین میں نئے سال کا استقبال رنگا رنگ تقریبات کے ساتھ کیا گیا نئے سال کو ڈریگن کا سال کہا جا رہا ہے۔
Source BBC Urdu
نشر تحت آس پاس | أكتب تعليقا »