سمندری بِرج کا افتتاح آج ہوگا

نشر من طرف editor في 3 July 2009

sumadari burajممبئی میں اپنی نوعیت کا پہلا سمندری برج جس کا یہاں کی عوام برسوں سے انتظار کر رہی تھی تیار ہو چکا ہے۔ اس کا افتتاح منگل کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ہاتھوں ہوگا لیکن پیر کی شب اس پر کی گئی آتش بازی اور اس کے خوبصورت نظارے کو دیکھنے کے لیے ممبئی کے ہزاروں شہری امڈ پڑے۔

رات آٹھ بج کر دس منٹ پر یہ برج آتش بازی اور لیزر شعاؤں سے جگمگا اٹھا۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر میں اے آر رحمن کی موسیقی کی دھن ’جے ہو‘ کے ساتھ دس منٹ تک یہ نظارہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اس کی روشنی کئی کلومیٹر دور تک دکھائی دے رہی تھی۔ کل اس کے افتتاح کے بعد تین دنوں تک اس برج پر عوام مفت سفر کر سکیں گے۔ اس کے بعد گاڑی کو اس پر سفر کرنے کے لیے پچاس روپیہ بطور ٹول ٹیکس ادا کرنے ہوں گے۔ اس پر موٹر سائیکل یا رکشہ لےجانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ممبئی کی بیسٹ کمپنی نے اس برج کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی خاطر بس چلانے کا ارادہ کیا ہے۔ بیسٹ مینجر اتم کھوپرگڑے کے مطابق یہ برج چونکہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا برج ہے اس لیے سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنے گا۔

اس پُل کی تعمیر پر ڈیڑھ سو ارب روپے سے زیادہ کی رقم خرچ ہوئی ہے۔

 

اس برج کی آٹھ لینز ہوں گی اور یہ 5.6 کلومیٹر طویل ہے۔ باندرہ سے ورلی کا سفر جو انتہائی مصروف ترین اوقات میں چالیس منٹ کا ہوتا تھا پہلے سات منٹ میں طے کیا جا سکتا تھا لیکن ٹریفک کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے اس برج پر گاڑی کی رفتار کو کم کر دیا ہے۔ چار سگنل بنا دیے ہیں اس لیے اب یہ فاصلہ آٹھ سے دس منٹ میں طے ہو سکے گا۔

نو سال کے عرصہ میں بننے والا ممبئی کا یہ سمندری برج جدید ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ ہندستان میں یہ پہلا کیبل سٹے سسٹم سے بنا برج ہے۔ کیبل سٹے سسٹم سے بنے اس برج پر 37,680 کلومیٹر تک سٹیل وائرز ہیں۔ اس کی اونچائی تینتالیس منزلہ عمارت تک کی ہے۔ ہندستان کنسٹرکشن کمپنی لمیٹیڈ جس نے اس برج کو بنایا ہے ان کے مطابق اس برج کا وزن پچاس ہزار افریقی ہاتھیوں کے وزن جتنا ہے۔ اس کے بنانے میں چھ ہزار مزدور دن رات کام کرتے رہے۔ اس کے تعمیر میں پانچ لاکھ پچھتر ہزار ٹن سیمینٹ کا استعمال کیا گیا۔

برج کی تعمیر کا منصوبہ سن دو ہزار میں تیار کر لیا گیا تھا لیکن ماہی گیروں اور ماحولیات کے تحفظ کی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی تھی اور اس لیے معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا۔ آخر کار سن دو ہزار چار میں اس کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔

اس برج کو بنانے میں ایک ہزار چھ سو چونتیس کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔

أترك تعليقا