پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے واضح الفاظ میں کہا ہے ملک میں کوئی
نیا صوبہ نہیں بنے گا اور اس معاملے کو اس موقع پر اٹھانا ملکی عدم استحکام میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے سوات میں فوجی چھاؤنی کے قیام کا بھی دفاع کیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پانچویں صوبے کی تجویز انہیں قابل قبول نہیں اور یہ ان کی جماعت کی سوچ اور منشور کے خلاف ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف عناصر کی جانب سے صوبہ پنجاب کو توڑ کر پانچواں صوبہ بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم خیال ہے کہ وزیر اعظم کے اس بیان سے یہ بحث اب ختم ہوجائے گی۔
سوات آپریشن کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ میں فوج کو کامیابی ویسے ہی نہیں ملی ہے بلکہ اس کے لیے انہوں نے قربانیاں دی ہیں لہذا صاف کیے جانے والے علاقوں میں چھاؤنیاں قائم کر دی جائیں گی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پولیس فورس کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنا تعاون جاری رکھیں جس کی ضرورت مالاکنڈ آپریشن کے خاتمے کے بعد بھی انہیں رہے گی کیونکہ بقول ان کے مستقبل کی پالیسی وہاں کی مقامی آبادی کی مدد سے چلائی جائے گی۔
وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس ماہ کے وسط میں شرم الشیخ میں ان کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات متوقع ہے اور انہیں امید ہے کہ اس سے تعلقات کو بہتری کی جانب لے جانے میں مدد ملے گی۔