میاں چنوں دھماکے میں تیرہ ہلاک

نشر من طرف editor في 14 July 2009

جنوبی پنجاب کے شہر میاں چنوں کے نواحی گاؤں میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو سے تیرہ ہو گئی جب کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ستر کے قریب لوگ زخمی ہوئے تھے۔

تحصیل ہیڈ کواٹر ہپستال کے سپرنٹنڈنٹ نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تیرہ تک جا پہنچی ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔

دھماکہ میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک ایک سو انتیس پندرہ ایل کے وسط میں واقع ایک دینی مدرسے میں صبح دس بجے ہوا۔

یہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ پورا گاؤں لرز اٹھا اور اردگرد کے متعدد گھر مسمار ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ایک جانب کے تمام پختہ اور کچے مکان تباہ ہوگئے اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔

ریجنل پولیس افسر ملتان عارف اکرام نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دھماکے میں بارہ سے زیادہ گھر بھی مسمار ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹا کر زخمیوں کو نکالنا شروع کیا اور کوئی ایک گھنٹے تک سرکاری امدادی ٹیمیں بھی پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو قریبی تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

ہپستال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نعیم صادق کے مطابق ان کے ہسپتال میں ابتدائی طور پر جو نو لاشیں لائی گئیں ان میں سے سات بچوں کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ستر سے زائد زخمیوں میں بہت سے جلے ہوئے ہیں اور متعدد کی حالت نازک ہے۔swat

پولیس ابھی تک اس پراسرار دھماکے کی وجوہات کا تعین نہیں کرسکی ہے۔ ریجنل پولیس افسر کا کہنا ہے کہ وہ ابھی دھماکے کی نوعیت کے بارے میں نہیں بتاسکتے۔ ضلعی پولیس افسر کامران خان جائے وقوعہ پر موجود تھے انہوں نے کہا کہ ان کا اندازہ ہے کہ دھماکہ خیز مواد پہلے سے کسی گھر کے اندر موجود تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ بظاہر ایک سکول ٹیچر، ماسٹر ریاض کا گھر تھا جہاں مذہبی تنظیموں کے لوگوں کا آناجانا تھا۔ اس گھر کے ساتھ ہی ایک مدرسہ ہے جس کا انتظام بھی انہی کے پاس تھا۔

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کےمطابق جنوبی پنجاب میں صوبے کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ مذہبی رجحانات اور شدت پسندی پائی جاتی ہے۔ شدت پسندی کے الزام میں حالیہ گرفتار اور مفرور پنجاب کے زیادہ ترافراد کے تعلق صوبے کےجنوبی حصے سے ہے۔

میاں چنوں کے ایک چھوٹے سے قصبے میں دھماکے کے بعد پولیس اور خفیہ سکیورٹی ایجنسیوں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں اور تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اردگرد کے علاقوں میں بھی خوف وہراس پایا جاتا ہے۔

أترك تعليقا