فوج سے میرے تعلقات خراب نہیں، ہو سکتا ہے کہ عام خیال ہو کہ ایسا ہے لیکن ایسا نہیں ہے: وزیراعظم گیلانی
پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی فوج کی جانب سے تختہ الٹنے کی تیاری کی باتوں میں کوئی صداقت ہے۔
انہوں نے یہ بات سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں بی بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ وزیراعظم عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے ڈیووس پہنچے ہیں۔
وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ ملک میں قبل از وقت انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس سوال پر کیا کہ وہ حقیقتاً ’انچارج‘ ہیں، پاکستان کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’یقیناً ایسا ہے۔ میں فوج سے خطرہ محسوس نہیں کرتا اور فوج کی جانب سے بغاوت کی باتوں میں صداقت نہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہونے کی باتیں بےبنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عوام، خفیہ ادارے، سول سائٹی، پارلیمان، میڈیا سب جمہوریت چاہتے ہیں۔ فوج بھی جمہوریت کی حامی ہے۔ اس لیے پاکستان میں جمہوریت کو خطرہ نہیں‘۔
اس سوال پر کہ کیا وہ بطور جمہوری وزیراعظم فوج کو کنٹرول کرتے ہیں، یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’درحقیقت میں آئین کی پاسداری کرتا ہوں۔ ہر کسی کو آئین کے مطابق چلنا ہے اور سبھی اس کے پابند ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’فوج سے میرے تعلقات خراب نہیں، ہوسکتا ہے کہ عام خیال ہو کہ ایسا ہے لیکن ایسا نہیں ہے‘۔
بی بی سی ورلڈ کی بندش
“ہم میڈیا کو مزید آزادی دینے کے حق میں ہیں۔ یہاں آنے سے قبل مجھے پتہ چلا کہ کچھ کیبل آپریٹرز نے ایسا کیا ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ بی بی سی پاکستان میں اپنی نشریات دکھائے۔“
وزیراعظم گیلانی
وزیراعظم کے مطابق ’پاکستان میں حکومتی اہلکاروں نے ایسے اقدامات کیے جو میرے نزدیک قواعد کے مطابق نہیں تھے اس لیے میں نے سیکرٹری دفاع کو ہٹا دیا۔گزشتہ روز جب میں یہاں آنے کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو میں نے بیان دیا کہ جو فرد ذمہ دار تھا اسے برخاست کر دیا گیا ہے اور فوج یا آئی ایس آئی کے سربراہ پر کوئی الزام نہیں لگایا جا رہا‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ان کی یا ان کے اتحادیوں کی حکومت ہے اور وہ اکثریت میں ہیں اس لیے ملک میں نئے انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ’نئے انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے پارلیمان میں اکثریت کی حمایت حاصل ہے‘۔
توہینِ عدالت کے نوٹس پر سپریم کورٹ میں پیشی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے لیے ان کے دل میں بہت احترام ہے اور ’ہم نے ہی انہیں آزاد کروایا ہے اور عدالت کے سامنے پیش ہونا
Source BBC Urdu