سعودی حکام نے سوائن فلو کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر ضعیف افراد ، حاملہ خواتین ، دمے کے
مریضوں اور بچوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ رواں سال حج اور عمرہ کی ادائیگی سے اجتناب کریں۔
یہ ہدایات سعودی عرب کے شہر جدہ میں حج اور عمرہ کے دوران صحت کی حفاظتی تدابیر کے حوالے سے ہونے والی ایک ورکشاپ میں کی گئی ہیں۔
یہ ورکشاپ سوائن فلو کو عالمی وباء کا درجہ دینے کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد شاہ عبداللہ کی ہدایت پر منعقد کی گئی تھی اور اس میں عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کے علاوہ دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں اور سعودی حکام نے شرکت کی۔
سعوری عرب نے حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے زائرین میں سوائن فلو کو پھیلنے سے روکنے کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کرنے کے لیے اس چار روزہ ورکشاپ میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت ، امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے ادارے اور دیگر تنظیموں کو دعوت دی تھی۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے زائرین ، مقدس مقامات کے مقامی شہریوں اور سہولیات فراہم کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سعودی عرب آنے سے کم از کم دو ہفتے پہلے ایچ ون این ون وائرس کی ویکسینیشن کروائیں۔
زائرین کو اس بات کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ رواں سال کے آخر میں دستیاب ہونے والی ایچ ون این ون وائرس کی نئی ویکسین کے انجکشن بھی لگوائیں۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے زائرین ، مقدس مقامات کے مقامی شہریوں اور سہولیات فراہم کرنے والوں ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے ملک سے سعودی عرب آنے سے کم از کم دو ہفتے پہلے ایچ ون این ون کی ویکسین کروائیں۔
ورکشاپ کے بعد سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر عبداللہ الربیہ نے ایک اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورکشاپ میں شرکت کرنے والے عالمی ادارۂ صحت کے حکام حج اور عمرہ کے دوران سوائن فلو کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے حفاظتی انتظامات سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب دنیا میں وہ واحد ملک ہے جو عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات پر قرنطینہ ( دوسرے ممالک سے آنے والے لوگوں کو احتیاطً الگ رکھنا ) کے نظام کو نافذ کر رہا ہے‘۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے اس ورکشاپ کا انعقاد مصر کے اس اعلان کے چند ہفتوں کے بعد کیا ہے جس میں مصر نے حج اور عمرہ کے دوران ممکنہ طور سوائن فلو کے پھیلنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حج اور عمرہ سے واپسی پر ہزاروں مصری زائرین کو قرنطینہ میں ٹھہرایا جائے گا۔ مصر کے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا۔
کچھ مذہبی علماء نے مصر کے اس فیصلے سے اتفاق کیا تھا کہ اگر عالمی ادارہ صحت نے سوائن فلو کو وباء قرار دے دیا تو واپسی پر زائرین کو قرنطینہ ( جہاں دفع امراض وبائی کے لیے ٹھہرایا جاتا ہے ) جائے۔بعض علماء کا خیال تھا جب تک سعودی مذہبی حکام کی جانب سے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک اس طرح کے اقدامات کرنے سے لوگوں کی مذہبی فرائض کی ادائیگی کی حوصلہ شکنی کرنے کے مترادف ہوگا۔