جسے اللہ رکھےاسے کون ‍‌‍‌‍‌چکھے

تصفح حسب التصنيف ...

 

ایک سو ترپن افراد میں صرف لڑکی بچ سکی

Thursday 2 July 2009

گزشتہ روز یمن ایئر لائنز کے طیارے کی تباہی میں ایک لڑکی کے زندہ بچ جانے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایک سو تریپن مسافروں میں یہی لڑکی زندہ بچی ہے۔

ایک فرانسیسی امدادی کارکن نے بتایا کہ اس نے کومروس کے جزائر میں لاشوں کی تلاش کے دوران دیکھا کہ ایک لڑکی ملبے اور لاشوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ اس نے بتایا کہ جب چودہ برس کی اس لڑکی کو اوپر کھینچا گیا تو وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔لڑکی کومروس کے ایک ہسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے جہاں پانچ لاشیں بھی بھیجی گئی ہیں۔

یمنی ایئر لائنز کا جہاز جس پر ایک سو تریپن افراد سوار تھے منگل کو بحرِ ہند میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ایئربس تین سو دس کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ دوسری مرتبہ اترنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہوئی۔

امدادی کارکن نے یورپ ریڈیو ون کو بتایا کہ جب اس نے لڑکی کو لاشوں کے ساتھ دیکھا تو جہاز سے ایک لائف بوٹ پھینکی لیکن چودہ سالہ لڑکی اسے پکڑ نہ سکی۔ ’لہذا مجھے لڑکی کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگانی پڑی۔ میں نے دیکھا کہ لڑکی بری طرح کانپ رہی تھی۔ ہم نے اس پر چار چادریں ڈالیں اور اسے گرم اور میٹھا پانی پلایا۔

ایئربس 310 سرکاری فضائی کمپنی یمینیا ایئر کی پرواز تھی جو یمن کے دارالحکومت ثنا سے کوموروس کے دارالحکومت مورونی جا رہی تھی۔airline

ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ کو کوموروس کے

 

دارالحکومت مورونی پہنچنے میں تیس منٹ کی مسافت باقی تھی جب یہ کوموروس کے مرکزی جزیرے گرینڈ کومور کے قریب سمندر میں گر کر

 

تباہ ہو گیا۔ جہاں طیارے کو حادثہ پیش آیا وہاں کوموروس کے تین جزائر ہیں جو مدگاسکر کے شمال مغرب میں

 

 ایک سو نوے میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔

 

 اس طیارے میں سوار زیادہ تر مسافروں کا تعلق کوموروس سے تھا جو پیرس سے براستہ یمن مورونی جا رہےتھے۔شہری ہوا بازی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارہ دارالحکومت مورونی سے چند کلو میٹر دور تھا کہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ اہلکار کے مطابق علاقے میں کئی دنوں سے موسم ٹھیک نہیں۔