حادثے

تصفح حسب التصنيف ...

 

فوجی ہیلی کاپٹر تباہ، 26 اہلکار ہلاک

Saturday 4 July 2009

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار چھبیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فوجی ہیلی کاپٹر میں چھبیس اہلکار سوار تھے اور حادثے میں تمام افراد ہلاک ہو گئے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر اورکزئی ایجنسی اور خیبر ایجنسی کی سرحد پر گرا ہے اور اس میں بیس سے پچیس تک اہلکار اور افسر سوار تھے۔انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کُرم ایجنسی سے پشاور جا رہا تھا کہ راستے میں اسے حادثہ پیش آ گیا۔helikaptor

انہوں نے کہا کہ تاحال حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی اس حادثے میں زخمی یا ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ فوجی جوان جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں پاکستانی فوج باقاعدہ طور پر آپریشن تو نہیں کر رہی لیکن چند ہفتے قبل پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے اپر اورکزئی ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی جس میں دو شہریوں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

راولپنڈی دھماکے کی تصاویر

Friday 3 July 2009

rawalpindi dhamaka

ایک سو ترپن افراد میں صرف لڑکی بچ سکی

Thursday 2 July 2009

گزشتہ روز یمن ایئر لائنز کے طیارے کی تباہی میں ایک لڑکی کے زندہ بچ جانے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایک سو تریپن مسافروں میں یہی لڑکی زندہ بچی ہے۔

ایک فرانسیسی امدادی کارکن نے بتایا کہ اس نے کومروس کے جزائر میں لاشوں کی تلاش کے دوران دیکھا کہ ایک لڑکی ملبے اور لاشوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ اس نے بتایا کہ جب چودہ برس کی اس لڑکی کو اوپر کھینچا گیا تو وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔لڑکی کومروس کے ایک ہسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے جہاں پانچ لاشیں بھی بھیجی گئی ہیں۔

یمنی ایئر لائنز کا جہاز جس پر ایک سو تریپن افراد سوار تھے منگل کو بحرِ ہند میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ایئربس تین سو دس کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ دوسری مرتبہ اترنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہوئی۔

امدادی کارکن نے یورپ ریڈیو ون کو بتایا کہ جب اس نے لڑکی کو لاشوں کے ساتھ دیکھا تو جہاز سے ایک لائف بوٹ پھینکی لیکن چودہ سالہ لڑکی اسے پکڑ نہ سکی۔ ’لہذا مجھے لڑکی کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگانی پڑی۔ میں نے دیکھا کہ لڑکی بری طرح کانپ رہی تھی۔ ہم نے اس پر چار چادریں ڈالیں اور اسے گرم اور میٹھا پانی پلایا۔

ایئربس 310 سرکاری فضائی کمپنی یمینیا ایئر کی پرواز تھی جو یمن کے دارالحکومت ثنا سے کوموروس کے دارالحکومت مورونی جا رہی تھی۔airline

ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ کو کوموروس کے

 

دارالحکومت مورونی پہنچنے میں تیس منٹ کی مسافت باقی تھی جب یہ کوموروس کے مرکزی جزیرے گرینڈ کومور کے قریب سمندر میں گر کر

 

تباہ ہو گیا۔ جہاں طیارے کو حادثہ پیش آیا وہاں کوموروس کے تین جزائر ہیں جو مدگاسکر کے شمال مغرب میں

 

 ایک سو نوے میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔

 

 اس طیارے میں سوار زیادہ تر مسافروں کا تعلق کوموروس سے تھا جو پیرس سے براستہ یمن مورونی جا رہےتھے۔شہری ہوا بازی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارہ دارالحکومت مورونی سے چند کلو میٹر دور تھا کہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ اہلکار کے مطابق علاقے میں کئی دنوں سے موسم ٹھیک نہیں۔