<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ہفت روزہ حق موجود &#187; ‮نڈیا‬</title>
	<atom:link href="http://www.haqmaujood.com/news/india/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.haqmaujood.com</link>
	<description>Weekly Haq Maujood Karachi Pakistan</description>
	<lastBuildDate>Mon, 23 Aug 2010 17:24:16 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>آخری مغل بادشاہ کی پڑپوتی کو نوکری</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/120</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/120#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 03 Jul 2009 11:05:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[شخصیات]]></category>
		<category><![CDATA[‮نڈیا‬]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=120</guid>
		<description><![CDATA[ہندوستان کا ایک سرکاری ادارہ کول انڈیا نے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی ایک غریب پڑپوتی کو غربت سے نکالنے کے لیے نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی مادہو اپنی ماں سلطانہ بیگم کے ہمراہ کلکتہ کے مضافات میں ایک چائے کا کھوکہ چلاتی ہیں۔مادھو بہادر شاہ ظفر کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">ہندوستان کا ایک سرکاری ادارہ کول انڈیا نے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی ایک غریب پڑپوتی کو غربت سے نکالنے کے لیے نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی مادہو اپنی ماں سلطانہ بیگم کے ہمراہ کلکتہ کے مضافات میں ایک چائے کا کھوکہ چلاتی ہیں۔مادھو بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی بیٹی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">محمد بیدار بخت کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی شدہ ہیں جبکہ مادھو کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کو سرکاری محکمے میں نوکری دینے کی وجہ آخری مغل بادشاہ کا 1857 کی جنگ آزادی میں عمدہ کردار ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">انڈیا کول اگلے ماہ ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کر رہی ہے جس میں وزیر کوئلہ نوکری کا باقاعدہ لیٹر بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کے حوالے کریں گے۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کی مدد کے لیے سرکاری محکمے میں نوکری کا سبب ایک بھارتی صحافی شیوناتھ جھا کی وہ مہم ہے جو وہ بھارت کے بھولے بسرے ہیروز کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کے بارے میں چلا رہے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">اس سے پہلے شیوناتھ جہا نے کاسیکل موسیقار بسم اللہ خان سے عدم توجہی کے بارے میں ایک مہم چلائے جس سے عظیم بسم اللہ خان اور ان کے اولاد کو کچھ مدد ملی۔</p>
<p style="text-align: right;">بھارت میں 1857 کی جنگ آزادی میں آخری مغل بادشاہ کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">اس سے پہلے شیوناتھ جہا نے سابق وزیر ریلوے لالو پرساد کے ذریعے 1857 کے ایک اور ہیرو تانتیا توپ کے دو پڑپوتیوں کو نوکری دلوائی تھی۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی شدہ جبکہ مادھو کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔محمد بیدار بخت کی بیوہ سلطانہ بیگم کا کہنا ہے کہ ان کی باقی چار بیٹیاں بھی غربت کی زندگی گزار رہی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">بھارت کے ایک صنعت کار مادھوسدھن اگروال نے بھی بھارت شاہ ظفر کی پڑپوتی کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے جنگ آزادی پر قابو پانے کے بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کر کے رنگون بھجوا دیا تھا جہاں نے اپنے آخری شعر لکھا تھا۔</p>
<p>’کتنا ہے بد نصیب ظفر، دفن کے لئے<br />
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں‘</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/120/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سمندری بِرج کا افتتاح آج ہوگا</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/101</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/101#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 03 Jul 2009 07:55:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[‮نڈیا‬]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=101</guid>
		<description><![CDATA[ممبئی میں اپنی نوعیت کا پہلا سمندری برج جس کا یہاں کی عوام برسوں سے انتظار کر رہی تھی تیار ہو چکا ہے۔ اس کا افتتاح منگل کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ہاتھوں ہوگا لیکن پیر کی شب اس پر کی گئی آتش بازی اور اس کے خوبصورت نظارے کو دیکھنے کے لیے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="TEXT-ALIGN: right"><img class="alignnone size-full wp-image-110" title="sumadari buraj" src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/sumadari-buraj.jpg" alt="sumadari buraj" width="226" height="170" />ممبئی میں اپنی نوعیت کا پہلا سمندری برج جس کا یہاں کی عوام برسوں سے انتظار کر رہی تھی تیار ہو چکا ہے۔ اس کا افتتاح منگل کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ہاتھوں ہوگا لیکن پیر کی شب اس پر کی گئی آتش بازی اور اس کے خوبصورت نظارے کو دیکھنے کے لیے ممبئی کے ہزاروں شہری امڈ پڑے۔</p>
<p style="TEXT-ALIGN: right">رات آٹھ بج کر دس منٹ پر یہ برج آتش بازی اور لیزر شعاؤں سے جگمگا اٹھا۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر میں اے آر رحمن کی موسیقی کی دھن ’جے ہو‘ کے ساتھ دس منٹ تک یہ نظارہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اس کی روشنی کئی کلومیٹر دور تک دکھائی دے رہی تھی۔ کل اس کے افتتاح کے بعد تین دنوں تک اس برج پر عوام مفت سفر کر سکیں گے۔ اس کے بعد گاڑی کو اس پر سفر کرنے کے لیے پچاس روپیہ بطور ٹول ٹیکس ادا کرنے ہوں گے۔ اس پر موٹر سائیکل یا رکشہ لےجانے کی اجازت نہیں ہو گی۔</p>
<p style="TEXT-ALIGN: right">ممبئی کی بیسٹ کمپنی نے اس برج کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی خاطر بس چلانے کا ارادہ کیا ہے۔ بیسٹ مینجر اتم کھوپرگڑے کے مطابق یہ برج چونکہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا برج ہے اس لیے سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنے گا۔</p>
<div style="text-align: right;">
<div><img src="http://www.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2009/06/06/090606003325_bandra_sealink_226.jpg" alt="" width="226" height="170" />اس پُل کی تعمیر پر ڈیڑھ سو ارب روپے سے زیادہ کی رقم خرچ ہوئی ہے۔</div>
</div>
<p style="text-align: right;"> </p>
<p style="text-align: right;">اس برج کی آٹھ لینز ہوں گی اور یہ 5.6 کلومیٹر طویل ہے۔ باندرہ سے ورلی کا سفر جو انتہائی مصروف ترین اوقات میں چالیس منٹ کا ہوتا تھا پہلے سات منٹ میں طے کیا جا سکتا تھا لیکن ٹریفک کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے اس برج پر گاڑی کی رفتار کو کم کر دیا ہے۔ چار سگنل بنا دیے ہیں اس لیے اب یہ فاصلہ آٹھ سے دس منٹ میں طے ہو سکے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">نو سال کے عرصہ میں بننے والا ممبئی کا یہ سمندری برج جدید ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ ہندستان میں یہ پہلا کیبل سٹے سسٹم سے بنا برج ہے۔ کیبل سٹے سسٹم سے بنے اس برج پر 37,680 کلومیٹر تک سٹیل وائرز ہیں۔ اس کی اونچائی تینتالیس منزلہ عمارت تک کی ہے۔ ہندستان کنسٹرکشن کمپنی لمیٹیڈ جس نے اس برج کو بنایا ہے ان کے مطابق اس برج کا وزن پچاس ہزار افریقی ہاتھیوں کے وزن جتنا ہے۔ اس کے بنانے میں چھ ہزار مزدور دن رات کام کرتے رہے۔ اس کے تعمیر میں پانچ لاکھ پچھتر ہزار ٹن سیمینٹ کا استعمال کیا گیا۔</p>
<p style="text-align: right;">برج کی تعمیر کا منصوبہ سن دو ہزار میں تیار کر لیا گیا تھا لیکن ماہی گیروں اور ماحولیات کے تحفظ کی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی تھی اور اس لیے معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا۔ آخر کار سن دو ہزار چار میں اس کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔</p>
<p style="text-align: right;">اس برج کو بنانے میں ایک ہزار چھ سو چونتیس کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/101/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہم جنس پرستی جائز: دلی عدالت</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/38</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/38#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 02 Jul 2009 08:20:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[‮نڈیا‬]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=38</guid>
		<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت دلی میں عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ دو بالغ ہم جنسوں میں اپنی مرضی سے جنسی تعلق جرم نہیں ہے۔
عدالت کے اس فیصلے نے ایک سو پینتالیس سالہ پرانے قانون کو ختم کردیا ہے جس میں ہم جنس پرستی ایک غیر فطری فعل قرار دیا گیا تھا۔
حقوق انسانی کی بھارتی تنظیموں کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">بھارتی دارالحکومت دلی میں عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ دو بالغ ہم جنسوں میں اپنی مرضی سے جنسی تعلق جرم نہیں ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">عدالت کے اس فیصلے نے ایک سو پینتالیس سالہ پرانے قانون کو ختم کردیا ہے جس میں ہم جنس پرستی ایک غیر فطری فعل قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">حقوق انسانی کی بھارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی سے متعلق بھارتی قوانین انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">واضح رہے کہ بھارت میں ہم جنس پرستی کی سزا دس سال قید تھی۔</p>
<p style="text-align: right;">اٹھائیس جون کو بھارت کے کئی شہروں میں ہم جنس پرستوں نے ریلیاں منعقد کی تھیں۔ اس دوران اس قسم کی بھی خبریں موصول ہو رہی تھیں کہ حکومت ہم جنس پرستی کے خلاف دفعہ 377 کو ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اسی قانون کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے کے لیے ہم جنس پرستوں نے ممبئی، بنگلور، کولکتہ اور چینئی میں خصوصی ریلیاں منعقد کی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/38/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
