آس پاس‬

تصفح حسب التصنيف ...

 

’مالی مدد کی بحالی سے کالعدم تنظیمیں متحرک‘

Friday 3 February 2012

رقوم کی منتقلی کی وجہ سے یہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہیں:خفیہ رپورٹ

پاکستان کے خفیہ اداروں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان اور بیرونِ ملک سے کالعدم تنظیموں کو ملکی اور غیر ملکی کرنسی میں سرمائے کی فراہمی سے ایسی تنظیمیں ایک بار پھر متحرک ہو رہی ہیں جوگُزشتہ کچھ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں کمزور پڑ گئی تھیں۔

بی بی سی اردو کو حاصل ہونے والی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق کئی کالعدم تنظیموں نے بینکوں میں مختلف نئے ناموں سے اکاؤنٹس دوبارہ کھلوا لیے ہیں جہاں پر نہ صرف ملک کے اندر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی رقوم منتقل کی جارہی ہیں۔

ان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث تنظیموں کے علاوہ دیگر تنظیمیں بھی شامل ہیں جو بظاہر سماجی کاموں میں مصروف ہیں تاہم حکومت کے مطابق ان تنظیموں کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اُنہیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

انٹیلیجنس اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رقوم کی منتقلی کی وجہ سے یہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ خفیہ اداروں کی طرف سے جو رپورٹس دی گئی ہیں اُن کے مطابق سات کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف بینکوں میں متحلف ناموں سے اپنے اکاؤنٹس کھلوا رہے ہیں۔ انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں میں جیش محمد، تحریک اسلامی، ملت اسلامیہ پاکستان، غازی فورس، حزب التحریر، جمیعت الفرقان اور خیرالنساء انٹرنیشنل ٹرسٹ شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق ان رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مذکورہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اور دیگر افراد کے ناموں پرملکی اور غیر ملکی کرنسی میں اکاؤنٹس کھلوا کر اُنہیں استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد میں متعدد ایسے ہیں جو پہلے بھی ان تنظیموں کے نام پر کُھلنے والے اکاؤنٹس میں رقم جمع کروانے اور نکلوانے کے لیے اُنہیں استعمال کرتے رہے ہیں تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے ان تنظیموں پر پابندی لگنے کے بعد اُنہوں نے ان اکاؤنٹس کو استعمال نہیں کیا۔

کئی کالعدم تنظیموں نے بینکوں میں مختلف نئے ناموں سے اکاؤنٹس دوبارہ کھلوالیے ہیں جہاں پر نہ صرف ملک کے اندر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی رقوم منتقل کی جارہی ہیں۔ ان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث تنظیمیوں کے علاوہ دیگر تنظیمیں بھی شامل ہیں جو بظاہر سماجی کاموں میں مصروف ہیں تاہم حکومت کے مطابق ان تنظیموں کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اُنہیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع وزارتِ داخلہ

ذرائع کے مطابق اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ ہنڈی کے ذریعے پیسے بھجوانے کے عمل کی کڑی مانٹرنگ کے بعد بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقم منتقل کرنے

Source BBC Urdu

پشتون موسیقی، رباب کے ماند پڑتے سُر

Friday 3 February 2012

رباب کو پشتو لوک موسیقی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں رباب کی ابتدا سب سے پہلے افغانستان سے ہوئی۔

لیکن اب کچھ عرصہ سے پاپ میوزک کے بڑھتے ہوئے رحجان اور شدت پسندی کے باعث پشتون علاقوں میں روایتی آلات موسیقی کا استعمال کم ہو رہا ہے۔

Source BBC Urdu

’پاکستان کی شبیہہ بدلنا چاہتا ہوں‘

Friday 3 February 2012

موٹر سائیکل پر امریکی شہر سان فرانسسکو سے لاہور تک ہزاروں میل کا سفر طے کرنے والے پاکستانی معین خان سے بی بی سی اردو کی ثناءگلزار کی خصوصی بات چیت۔

Source BBC Urdu

پاکستان کا ’لٹل برازیل‘

Friday 3 February 2012

کراچی میں لیاری کا علاقہ تشدد، جرائم اور منشیات کے فروخت کے لیے جانا جاتا ہے لیکن یہی علاقہ فٹ بال کے شائقین کا بھی گڑھ ہے۔ یہاں ایک سو سے زائد فٹ بال کلب، گیارہ فٹ بال گراؤنڈ اور دو سٹیڈیم موجود ہیں۔

Source BBC Urdu

چلی کے برف چور

Friday 3 February 2012

چلی میں کچھ انوکھے چور پکڑے گئے ہیں جو ہورہے مونٹ گلیشیر سے برف چوری کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

Source BBC Urdu

سوڈان، امن کیلیے جاری اجلاس میں فائرنگ، 37 ہلاک

Friday 3 February 2012

جنوبی سوڈان میں قیامِ امن کے لیے جاری ایک اجلاس کے دوران فائرنگ سے کم سے کم سینتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں جاری نسلی تشدد کو روکنے کے لیے ایک دور دارز کے قصبے میں ہونے والے اجلاس میں تین ریاستوں اور اقوامِ متحدہ کے نمائندے شریک تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں تاہم زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے۔

قیامِ امن کے لیے یہ اجلاس رواں ہفتے ہونے والے جھڑپوں میں چوہتر افراد کی ہلاک کے بعد بلایا گیا تھا۔ اس حالیہ تشدد کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق جمعے کے روز ہونے والا یہ واقعہ اجلاس کے دوران ایک اختلاف کے بعد پیش آیا۔

اجلاس جاری تھا کے مسلح افراد سے بھرے چار ٹرک وہاں آئے اور بلاتفریق فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے دوران اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا۔

سوڈان کے نائب وزیرِ دفاع نے بی بی سی کو بتایا یہ واقعہ دو ریاستوں کے پولیس کے درمیان اختلاف پیدا ہو جانے بعد پیش آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ حملہ اس پر کیا گیا ہے۔ یہ مسئلہ مناسب اختیار اور قیادت کی عدم موجودگی کے باعث پیدا ہوا۔‘

نامہ نگاروں کے مطابق جولائی میں سوڈان سے الگ ہونے والی جنوبی سوڈان کی ریاست کے لیے سکیورٹی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

Source BBC Urdu

یورپ شدید سردی کی لپٹ میں، یوکرین میں سو سے زیادہ ہلاک

Friday 3 February 2012

یوکرین میں جمعہ کو پیش گوئی کی گئی ہے کہ سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا

یورپ شدید سردی کی لپیٹ میں ہے اور صرف یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ برفانی موسم کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہو چکی ہے۔

یوکرین کے شہر کِیو میں جمعہ کو حکومت نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر افراد بے گھر تھے جن میں سے چونسٹھ افراد کی لاشیں سڑکوں سے مِلیں۔

سردی سے ٹِھٹھرنے والے سینکڑوں افراد کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے جنہیں علاج مہیّا کیا جا رہا ہے۔

رواں ہفتے مشرقی یورپ کے چند علاقوں میں درجۂ حرارت منفی پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک گِر چکا ہے۔

جمعرات کو پولینڈ میں بھی کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد وہاں سردی سے ٹھٹھر کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینتیس ہوچکی ہے۔

برفانی موسم کے باعث مشرقی اور وسطی یورپ سے کئی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

خبررساں ادارے انٹرفیکس کا کہنا ہے کہ روس میں موسمِ سرما کے ماہِ جنوری میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چونسٹھ تھی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ تمام افراد شدید سردی سے ہی ہلاک ہوئے، اِسی طرح سربیا کے پہاڑی گاؤں میں گیارہ ہزار افراد برفانی طوفان اور سرد ہواؤں میں گھرے ہوئے ہیں جبکہ اٹلی میں محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں ہفتہ اٹلی میں گزشتہ ستائیس برس میں سب سے زیادہ سرد ہفتہ ہے۔

برفانی موسم کے باعث مشرقی اور وسطی یورپ سے کئی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں

یوکرین میں جمعہ کو پیش گوئی کی گئی ہے کہ سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا جبکہ رات میں توقع ہے کہ شمال اور مغرب میں درجۂ حرارت منفی بتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا۔

یوکرین میں شدید سردی کی وجہ سے حکومت نے سکول اور کالج بند کردیے ہیں جبکہ ملک بھر میں مختلف مقامات پر تین ہزار کے قریب ایسے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں گرم ماحول اور خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔

محکمۂ صحت کے حکام نے ہسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بے گھر افراد کو ان کے صحتمند ہوجانے کے بعد بھی ہسپتال سے فارغ نہ کریں تاکہ انہیں سردی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

یوکرین کے وزیرِاعظم مائکولا ازاروف نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں سردی کی شدت کے باعث صرف تین دن کے دوران ایک ارب مکعب میٹر گیس استعمال ہوچکی ہے۔ یوکرین نے سنہ دو ہزار بارہ میں روس سے ستائیس ارب مکعب میٹر گیس خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا ’ملک پر یہ ایک کڑا وقت ہے۔اور ہم پرعزم ہیں کہ ہم ان مشکلات پر قابو پا لیں گے۔‘

Source BBC Urdu

’طالبان کی طرح خفیہ مذاکرات پر یقین نہیں‘

Friday 3 February 2012

تمام گروپ متحد ہو کر مذاکرات کریں تاکہ ماضی کی طرح خانہ جنگی سے بچا جا سکے: گلبدین حکمت یار

حزبِ اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ انہیں بھی افغانستان سے باہر دفتر کھولنے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کو اس لیے مسترد کردیا کیونکہ اس کا مطلب جلاوطنی ہوگا۔

بی بی سی کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے جوابات میں گلبدین حکمت یار نے کہا کہ حزبِ اسلامی طالبان کی طرح خفیہ مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے باہر دفتر کھولنا، نواز شریف کو سعودی عرب اور پرویز مشرف کو لندن بھیجنے کے مترادف ہوگا۔

گزشتہ ماہ کابل کو بھیجے گئے حزبِ اسلامی کے وفد کی امریکی حکام اور افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ مذاکرات کی بابت انہوں نے کہا کہ یہ وفد مخالف فریق کی دعوت پر کابل گیا تھا۔

افغانستان سے باہر دفتر کھولنا، نواز شریف کو سعودی عرب اور پرویز مشرف کو لندن بھیجنے کے مترادف ہوگا

گلبدین حکمت یار

انہوں نے کہا کہ کابل کے مذاکرات سے معلوم ہوا کہ امریکیوں کے ساتھ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی منصوبہ نہیں۔

’ہمارے وفد نے کابل میں امریکہ کے مرکزی انٹیلی جنس کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریئس اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقاتیں کی ہیں لیکن ان کے پاس افغان مسئلے کے حل کے لیے کوئی واضح پلان نہیں۔‘

حکمت یار نے کہا کہ کابل حکومت کے پاس افغان مسئلہ کے حل کے لیے کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی مذاکرات کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہو سکتا ہے لیکن غیر ملکیوں کی موجودگی میں جنگ بندی نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں ان کے وفد کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی لیکن حزبِ اسلامی نے اس پیشکش کو بھی مسترد کر دیا کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں۔

’غیر ملکیوں کی موجودگی میں جنگ بندی یا مجاہدین افغانستان میں غیر ملکیوں کے مزید رہنے پر اتفاق کرلیں، مجاہدین اس کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔‘

قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور قطر ہی میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سوال پر حکمت یار نے طالبان کو مشورہ دیا کہ وہ الگ لگ مذاکرات سے گریز کریں اور تمام گروپ متحد ہو کر مذاکرات کریں تاکہ ماضی کی طرح خانہ جنگی سے بچا جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ طالبان کافی عرصے سے بالواسطہ یہ بلاواسطہ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں

Source BBC Urdu

رپورٹ ’پرانی شراب اس سے بھی پرانی بوتل میں‘: حنا ربانی

Wednesday 1 February 2012

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے نیٹو کی اس رپورٹ کو ’پرانی شراب اس سے بھی پرانی بوتل میں‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کو پاکستانی سکیورٹی اداروں سے براہِ راست مدد مل رہی ہے۔

کلِک
پاکستان افغان طالبان کا براہ راست معاون ہے

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کابل میں اپنے ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کا کوئی خفیہ ایجنڈہ نہیں۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ نیٹو کی رپورٹ ‘سٹریٹیجک لِیک’ ہے اور یہ الزام تو ایسے ہی ہے جیسے ‘برانی شراب اس سے بھی پرانی بوتل میں‘۔

نیٹو کی یہ رپورٹ گرفتار ہونے والے چار ہزار طالبان، القاعدہ کے ارکان، غیر ملکی جنگجوؤں اور شہریوں سے کیے گئے تقریباً ستائیس ہزار انٹرویوز پر مبنی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ رپورٹ کا اس موقع پر سامنے آنا حساس ہے۔ پاکستان نے نومبر میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے کے نتیجے میں اپنے چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے اب تک نیٹو کو جانے والی رسد کا راستہ بند کر رکھا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے خیال میں پاکستان پر دباؤ میں اضافے سے ملک میں، مغرب کے ساتھ تعاون کے خاتمے کے لیے عوامی حمایت مزید بڑھے گی۔

خود پاکستانی وزیرِ خارجہ نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک ’سٹریٹیجک لیک’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ بند کر دینا چاہیے۔

Source BBC Urdu

کراچی میں اساتذہ کا احتجاج،

Wednesday 1 February 2012

سندھ میں عارضی ملازمت پر کام کرنے والے اساتذہ نے اپنی ملازمت مستقل کرنے کےلیے احتجاج کیا جس کے دوران انہیں آنسو گیس، لاٹھیوں اور واٹر کینن کا مقابلہ کرنا پڑا۔ کراچی سے ریاض سہیل کی رپورٹ

Source BBC Urdu