رقوم کی منتقلی کی وجہ سے یہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہیں:خفیہ رپورٹ
پاکستان کے خفیہ اداروں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان اور بیرونِ ملک سے کالعدم تنظیموں کو ملکی اور غیر ملکی کرنسی میں سرمائے کی فراہمی سے ایسی تنظیمیں ایک بار پھر متحرک ہو رہی ہیں جوگُزشتہ کچھ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں کمزور پڑ گئی تھیں۔
بی بی سی اردو کو حاصل ہونے والی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق کئی کالعدم تنظیموں نے بینکوں میں مختلف نئے ناموں سے اکاؤنٹس دوبارہ کھلوا لیے ہیں جہاں پر نہ صرف ملک کے اندر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی رقوم منتقل کی جارہی ہیں۔
ان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث تنظیموں کے علاوہ دیگر تنظیمیں بھی شامل ہیں جو بظاہر سماجی کاموں میں مصروف ہیں تاہم حکومت کے مطابق ان تنظیموں کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اُنہیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔
انٹیلیجنس اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رقوم کی منتقلی کی وجہ سے یہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہیں۔
وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ خفیہ اداروں کی طرف سے جو رپورٹس دی گئی ہیں اُن کے مطابق سات کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف بینکوں میں متحلف ناموں سے اپنے اکاؤنٹس کھلوا رہے ہیں۔ انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں میں جیش محمد، تحریک اسلامی، ملت اسلامیہ پاکستان، غازی فورس، حزب التحریر، جمیعت الفرقان اور خیرالنساء انٹرنیشنل ٹرسٹ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق ان رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مذکورہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اور دیگر افراد کے ناموں پرملکی اور غیر ملکی کرنسی میں اکاؤنٹس کھلوا کر اُنہیں استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد میں متعدد ایسے ہیں جو پہلے بھی ان تنظیموں کے نام پر کُھلنے والے اکاؤنٹس میں رقم جمع کروانے اور نکلوانے کے لیے اُنہیں استعمال کرتے رہے ہیں تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے ان تنظیموں پر پابندی لگنے کے بعد اُنہوں نے ان اکاؤنٹس کو استعمال نہیں کیا۔
“کئی کالعدم تنظیموں نے بینکوں میں مختلف نئے ناموں سے اکاؤنٹس دوبارہ کھلوالیے ہیں جہاں پر نہ صرف ملک کے اندر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی رقوم منتقل کی جارہی ہیں۔ ان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث تنظیمیوں کے علاوہ دیگر تنظیمیں بھی شامل ہیں جو بظاہر سماجی کاموں میں مصروف ہیں تاہم حکومت کے مطابق ان تنظیموں کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اُنہیں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔“
ذرائع وزارتِ داخلہ
ذرائع کے مطابق اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ ہنڈی کے ذریعے پیسے بھجوانے کے عمل کی کڑی مانٹرنگ کے بعد بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقم منتقل کرنے
Source BBC Urdu


