امریکہ کے ٹی وی چینل ’سی این این‘ نے پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج طالبان کمانڈروں بشمول ملا عمر سے نہ صرف رابطے میں ہے بلکہ انہیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ بھی کر سکتی ہے۔
سی این این نے کہا ہے کہ میجر جنرل اطہر عباس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے کے عوض چاہتا ہے کہ امریکہ بھارت پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے پاکستان کے لیے کچھ آسانیاں پیدا کرنے میں مدد کرے۔
سی این این کے مطابق میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ سویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکی اتحادی افغان گروپوں سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے بڑے قریبی روابط تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی اب بھی طالبان کمانڈروں ملاء عمر، جلال الدین حقانی، ملانذیر اور گلبدین حکمت یار سے رابطے میں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اطہر عباس نے کہا کہ ’ہاں یہ درست ہے کہ آئی ایس آئی سویت یونین کے خلاف جنگ میں صف اول میں رہی ہے۔ اور اب ان تنظیموں، ملا عمر کی طالبان اور گلبدین حکمت یار کی حذب اسلامی سے رابطے رکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کی یہ پالیسی ہے کہ ان تنظیموں کو مالی یا مادی مدد فراہم کی جا رہی ہے یا انہیں تریبت دی جا رہی ہے۔‘
سی این این نے پاکستان فوج کےترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے ساتھ اپنے اس انتہائی اہم انٹرویو کی تمام ویڈیو فوٹیج نہ ہی اپنی نشریات اور نہ ہی اپنی ویب سائٹ پر تاحال استعمال کی تاہم انہوں نے اس انٹرویو کے دوران میجر جنرل اطہر عباس کی زبان سے ادا کیئے گئے چند جملوں کی ویڈیو ریکارڈنگ استعمال کی ہے۔
اطہر عباس نےکہا کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد ان گروپوں کی مدد کرنے کی پاکستان کی پالیسی میں ’یو ٹرن‘ آیا اور یہ یکسر تبدیل کر دی گئی۔
ہلمند صوبے میں ’خنجر‘ کے نام سے فوجی کارروائی جاری ہے
اطہر عباس نے مزید کہا کہ ’ریاست نے اس پالیسی کو اپنایا، فوج نے اپنایا اور آئی ایس آئی نے اپنایا۔ اس کےبعد دنیا کا کوئی خفیہ ادارہ اپنے دروازے کسی دوسرے ادارے یا تنظیم پر بند نہیں کرتا۔ اس لیے یہ رابطے موجود ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ افغانستان میں وہ جو کچھ کر رہے ہیں آپ اس کی تائید کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ آپ اپنے مسائل میں گہرے ہوئے ہیں۔سی این این کے مطابق اطہر عباس نے مزید کہا کہ پاکستان فوج اب بھی طالبان کو امریکہ کے ساتھ بات کرنے کے لیے میز پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ جنگ بندی کرا کے فریقین میں باقاعدہ مذاکرات شروع کیئے جا سکیں۔
اطہر عباس نے کہا ’بالکل مذاکرات۔ بالآخر مذاکرات ہی طرف آنا پڑتا ہے اور میرے خیال میں اس پر کام ہو سکتا ہے اور یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔‘
سی این این نے ایک اعلی امریکہ اہلکار کے حوالے سے جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کہا کہ بش انتظامیہ طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے اور بھارت کے حوالے سے پاکستان کے لیے تحفظات پر بھارت سے بات کرنے پر تیار ہے۔
واشنگٹن میں موجود بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار جاوید سومرو نے کہا ہے کہ میجر جنرل اطہر عباس کے انٹرویو کے جو ویڈیو کلپس یا ٹکڑے نشر کیئے گئے ہیں ان کی یہ تشریح کی جاسکتی ہے کہ پاکستان فوج کے طالبان کمانڈروں سے روابط ہیں۔
طالبان سے مذاکرات اور بھارت سے معاملات طے کرنے والی بات پر جاوید سومرو نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان کی فوج کسی طرح کی پیشکش کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میجر جنرل اطہرعباس نے یہ ضرور کہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کے لیے تیار کرنے کے لیے کام کیا جا سکتا ہے اور یہ ممکن ہو سکتا ہے۔
سی این این کے نامہ نگار مائیکل ویر نے اپنی رپورٹ میں اطہر عباس کے حوالے سے یہ تحریر کیا ہے طالبان سے مذاکرات شروع کرانے کے عوض پاکستان فوج بھارت سے معاملات طے کروانا چاہتی ہے۔
تاہم نامہ نگار نے نہ ہی اپنے تحریری مراسلے میں اس بارے میں اطہر عباس کے اپنے الفاظ میں کہا ہوا جملہ لکھا ہے اور نہ ہی اس کی ویڈیو ریکارڈنگ کا ٹکڑا نشر کیا گیا ہے۔
بی بی اردو سروس کے مدیرِ اعلی عامر احمد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو باقاعدہ انٹرویو سے پہلے پس پردہ بریفنگ دی جاتی ہے اور حساس نوعیت کے معاملات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے یہ بات باقاعدہ انٹرویو میں نہ کہی گئی ہو بلکہ پس پردہ بریفنگ میں سی این این کے نمائندے کو اس سے آگاہ کیا گیا ہو۔
سی این این کے نمائندے نے لکھا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو کے فوجی کمانڈر برملا کہتے ہیں کہ افغانستان کے چند اہم حصوں میں طالبان سے جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا اور امید کی جا سکتی ہے کہ مزید امریکی فوجیوں کے وہاں بھیجیے جانے سے اس تعطل کی صورت حال کو توڑا جا سکے۔ تاہم فوجی اور سفارتی حلقے اس بات پر کم و بیش متفق ہیں کہ امریکہ افغانستان میں جنگ جیت نہیں سکتا۔
اکثریتی رائے یہی ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کا بلآخر سیاسی اور اقتصادی حل تلاش کرنا پڑے گا اس کا فوجی حل ممکن نہیں ہے جس کے لیے طالبان سے بات کرنی پڑے گی۔ اس طرح کا حل ڈھونڈنے کے لیے امریکہ اور نیٹو کے پاکستان، بھارت، ایران اور ممکنہ طور پر سعودی عرب کی شمولیت ضروری ہو گی۔
نامہ نگار نے کہا کہ اب جب کہ پاکستان فوج نے کھل کر یہ بات کہہ دی ہے کہ اس کے طالبان سے رابطے ہیں اور وہ ایک کردار ادا کر سکتی ہے یہ سن دو ہزار ایک میں امریکی حملے سے شروع ہونے والی افغان جنگ کو ختم کرنے کا ایک اہم موقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔