<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ہفت روزہ حق موجود &#187; آس پاس‬</title>
	<atom:link href="http://www.haqmaujood.com/news/nearby/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.haqmaujood.com</link>
	<description>Weekly Haq Maujood Karachi Pakistan</description>
	<lastBuildDate>Mon, 23 Aug 2010 17:24:16 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>طالبان قتل عام کی تحقیق ہوگی</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/186</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/186#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 Jul 2009 11:51:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=186</guid>
		<description><![CDATA[امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں سن دو ہزار دو میں ہونے والے مبینہ قتل عام کے بارے میں معلومات حاصل کر ہے ہیں۔ اسی دوران الزام لگایا جا رہا کہ سابق صدر جارج بُش نے اس واقعے کی تحقیقات کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں سن دو ہزار دو میں ہونے والے مبینہ قتل عام کے بارے میں معلومات حاصل کر ہے ہیں۔ اسی دوران الزام لگایا جا رہا کہ سابق صدر جارج بُش نے اس واقعے کی تحقیقات کو روکنے کی کوشش کی تھی۔</p>
<p>کہا جاتا ہے کہ سن دو ہزار ایک کے آخر میں جن سینکڑوں یا بعض اندازوں کے مطابق ہزاروں طالبان جنگجوؤں نے امریکہ کی حمایت والے شمالی اتحاد کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ لوگ امریکہ کے اتحادی جنرل رشید دوستم کی تحویل میں تھے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق</p>
<p>سن دو ہزار میں پہلی بار الزام لگایا گیا کہ ان طالبان جنگجوؤں کو بند کنٹینروں میں چھوڑ دیا گیا جہاں ان کا دم گھٹ گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کنٹینروں پر باہر سے گولیاں برسائی گئی تھیں۔<a rel="attachment wp-att-195" href="http://www.haqmaujood.com/186/teel-2"><img class="size-full wp-image-195 alignleft" title="teel" src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/teel1.jpg" alt="teel" width="226" height="170" /></a></p>
<p>امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے سرکاری حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے کہا تھا کہ بش انتظامیہ کے افسران نے بار بار اس واقعے کی تفتیش کی حوصلہ شکنی کی تھی۔اخبار نے اہلکار کے حوالے سے کہا کہ اس وقت کسی نے تفتیش سے انکار نہیں کیا تھا لیکن کسی نے ایسا کرنے کے لیے ’ہاں‘ بھی نہیں کہا۔</p>
<p>معاملہ دوبارہ اس وقت اہم ہوگیا جب جنرل رشید دوستم کو گزشتہ مہینے ایک بار پھر افغانستان کے صدر کا ملٹری چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا۔ دوستم اس وقت ترکی میں ہیں۔ انہیں گزشتہ برس ایک سیاسی حریف پر بندوق تاننے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>صدر اوباما نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں کوئی قوم جنگ میں بھی نہیں بھول سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات سامنے آتی ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کو ہماری حمایت حاصل تھی تو ہمیں اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/186/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>میاں چنوں دھماکے میں تیرہ ہلاک</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/165</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/165#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 Jul 2009 05:46:35 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=165</guid>
		<description><![CDATA[جنوبی پنجاب کے شہر میاں چنوں کے نواحی گاؤں میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو سے تیرہ ہو گئی جب کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ستر کے قریب لوگ زخمی ہوئے تھے۔
تحصیل ہیڈ کواٹر ہپستال کے سپرنٹنڈنٹ نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a rel="attachment wp-att-179" href="http://www.haqmaujood.com/165/swat-4"></a>جنوبی پنجاب کے شہر میاں چنوں کے نواحی گاؤں میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو سے تیرہ ہو گئی جب کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ستر کے قریب لوگ زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>تحصیل ہیڈ کواٹر ہپستال کے سپرنٹنڈنٹ نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تیرہ تک جا پہنچی ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔</p>
<p>دھماکہ میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک ایک سو انتیس پندرہ ایل کے وسط میں واقع ایک دینی مدرسے میں صبح دس بجے ہوا۔</p>
<p>یہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ پورا گاؤں لرز اٹھا اور اردگرد کے متعدد گھر مسمار ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ایک جانب کے تمام پختہ اور کچے مکان تباہ ہوگئے اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔</p>
<p>ریجنل پولیس افسر ملتان عارف اکرام نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دھماکے میں بارہ سے زیادہ گھر بھی مسمار ہوگئے ہیں۔</p>
<p>مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹا کر زخمیوں کو نکالنا شروع کیا اور کوئی ایک گھنٹے تک سرکاری امدادی ٹیمیں بھی پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو قریبی تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔</p>
<p>ہپستال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نعیم صادق کے مطابق ان کے ہسپتال میں ابتدائی طور پر جو نو لاشیں لائی گئیں ان میں سے سات بچوں کی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ستر سے زائد زخمیوں میں بہت سے جلے ہوئے ہیں اور متعدد کی حالت نازک ہے۔<a rel="attachment wp-att-179" href="http://www.haqmaujood.com/165/swat-4"><img class="alignleft" title="swat" src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/swat3.jpg" alt="swat" width="226" height="170" /></a></p>
<p>پولیس ابھی تک اس پراسرار دھماکے کی وجوہات کا تعین نہیں کرسکی ہے۔ ریجنل پولیس افسر کا کہنا ہے کہ وہ ابھی دھماکے کی نوعیت کے بارے میں نہیں بتاسکتے۔ ضلعی پولیس افسر کامران خان جائے وقوعہ پر موجود تھے انہوں نے کہا کہ ان کا اندازہ ہے کہ دھماکہ خیز مواد پہلے سے کسی گھر کے اندر موجود تھا۔</p>
<p>مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ بظاہر ایک سکول ٹیچر، ماسٹر ریاض کا گھر تھا جہاں مذہبی تنظیموں کے لوگوں کا آناجانا تھا۔ اس گھر کے ساتھ ہی ایک مدرسہ ہے جس کا انتظام بھی انہی کے پاس تھا۔</p>
<p>مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کےمطابق جنوبی پنجاب میں صوبے کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ مذہبی رجحانات اور شدت پسندی پائی جاتی ہے۔ شدت پسندی کے الزام میں حالیہ گرفتار اور مفرور پنجاب کے زیادہ ترافراد کے تعلق صوبے کےجنوبی حصے سے ہے۔</p>
<p>میاں چنوں کے ایک چھوٹے سے قصبے میں دھماکے کے بعد پولیس اور خفیہ سکیورٹی ایجنسیوں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں اور تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اردگرد کے علاقوں میں بھی خوف وہراس پایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/165/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پیٹرولیم آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/161</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/161#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 11 Jul 2009 05:11:02 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=161</guid>
		<description><![CDATA[صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کاربن ٹیکس کی معطلی کے بعد جاری کیا گیا تھا اور اس کے نفاذ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک مرتبہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کاربن ٹیکس کی معطلی کے بعد جاری کیا گیا تھا اور اس کے نفاذ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر اسی سطح پر پہنچ گئی تھی جہاں وہ کاربن ٹیکس کے ساتھ تھیں۔</p>
<p>کلِک مہنگے پیٹرول پر احتجاج: ویڈیو</p>
<p>جمعہ کو اس آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں شعیب شاہد ایڈوکیٹ کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس نہ صرف آئین کی شق چار، آٹھ اور چودہ سے متصادم ہے بلکہ اس سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔</p>
<p>درخواست گزار کے وکیل اکرام چودھری ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ صدر کے پاس کسی آرڈیننس کے تحت ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے اس لیے انہوں نے عدالت سے اس آرڈیننس کے خلاف فوری طور پر حکمِ امتناعی جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔<br />
<a href="http://www.haqmaujood.com/161/090710224404_us_soldier_tired_226" rel="attachment wp-att-162"><img src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/090710224404_us_soldier_tired_226.jpg" alt="090710224404_us_soldier_tired_226" title="090710224404_us_soldier_tired_226" width="226" height="170" class="alignnone size-full wp-image-162" /></a><br />
انہوں نے اپیل کی کہ اس درخواست کی سماعت پیر تیرہ جولائی سے کی جائے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سپریم کورٹ میں کاربن ٹیکس کے خلاف ن لیگ کے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا کی اصل درخواست اب بھی زیرِ سماعت ہے جبکہ جمعرات کو نمٹائی جانے والی درخواست اسی معاملے پر دائر کی گئی ایک دیگر درخواست تھی۔ خیال رہے کہ اکرام چودھری سینیٹر جھگڑا کے بھی وکیل ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ اکرام چودھری نے گزشتہ روز بھی عدالت میں کاربن ٹیکس کے خلاف دائر کی جانے والے درخواست کی سماعت کے دوران صدارتی آرڈنینس کو عدالتی کارروائی میں مداخلت کے مترادف قرار دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ’ اگر اس آرڈنینس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو پھر اس کو دیکھیں گے‘۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے سات جولائی کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ کاربن ٹیکس معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کے نام سے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اتنا ہی اضافہ کر دیا جتنی کہ یہ قیمتیں سپریم کورٹ کی جانب سے کاربن ٹیکس کی عارضی طور پر معطلی کے بعد کم ہوئی تھیں۔</p>
<p>صدر کے پاس کسی آرڈیننس کے تحت ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے<br />
اکرام چودھری ایڈوکیٹ<br />
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کی شام ایک نیوز بریفنگ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے بعد صدر کی طرف سے قیمتیں بڑھانے کے بارے میں جاری کردہ آرڈیننس کا مکمل دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کے مشورے پر جاری ہوا ہے۔ وزیراعظم نے عدالتی فیصلے کے برعکس پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں آرڈیننس کے متعلق بات کرتے ہوئے کافی محتاط الفاظ کا استعمال کیا اور یہ تاثر دیا کہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور کرتی رہے گی لیکن تمام اداروں کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ پارلیمان کو بالا دست بنانا چاہیے اور پارلیمان بالادست عوام سے ہوتی ہے اور سولہ کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں نے تاریح میں پہلی بار متفقہ طور پر بجٹ منظور کیا جس میں کاربن ٹیکس ملکی حالات کی وجہ سے لگایا گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’آپ مجھے بتائیں کہ میں نے کون سا غلط کام کیا ہے؟۔’ہم تو عدلیہ سے کہتے ہیں کہ ہمارا موقف سنیں ہمارے دلائل سنیں ۔۔ جو مالی مشکلات ہیں اس بارے میں ہمارے ماہرین کی رائے سنیں۔۔ اس وقت ہمارے ماہرین کی ٹیم بیرون ملک آئی ایم ایف سے ڈیل کر رہی ہے اور اس صورتحال میں ان کی کیا پوزیشن ہوگی؟‘</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا آرڈیننس اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو پیش کیا ہے اور اس پر جو بھی عدلیہ فیصلہ کرے گی حکومت اس کا احترام کرے گی ۔۔ ہمیں یقین ہے کہ عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ پارلیمان کی خودمختاری کے حق میں ہوگا‘۔</p>
<p>ادھر پاکستان کے مختلف شہروں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کو بھی متعدد تنظیموں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو بھی کراچی اور لاہور میں وکلاء اور مزدور تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے جن میں نہ صرف حکومت بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/161/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>’طالبان اور آئی ایس آئی کے رابطے، فوج کا اعتراف‘</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/155</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/155#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 11 Jul 2009 04:47:38 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=155</guid>
		<description><![CDATA[امریکہ کے ٹی وی چینل ’سی این این‘ نے پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج طالبان کمانڈروں بشمول ملا عمر سے نہ صرف رابطے میں ہے بلکہ انہیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ بھی کر سکتی ہے۔
سی این این نے کہا ہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>امریکہ کے ٹی وی چینل ’سی این این‘ نے پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج طالبان کمانڈروں بشمول ملا عمر سے نہ صرف رابطے میں ہے بلکہ انہیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ بھی کر سکتی ہے۔</p>
<p>سی این این نے کہا ہے کہ میجر جنرل اطہر عباس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے کے عوض چاہتا ہے کہ امریکہ بھارت پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے پاکستان کے لیے کچھ آسانیاں پیدا کرنے میں مدد کرے۔</p>
<p>سی این این کے مطابق میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ سویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکی اتحادی افغان گروپوں سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے بڑے قریبی روابط تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی اب بھی طالبان کمانڈروں ملاء عمر، جلال الدین حقانی، ملانذیر اور گلبدین حکمت یار سے رابطے میں ہے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں اطہر عباس نے کہا کہ ’ہاں یہ درست ہے کہ آئی ایس آئی سویت یونین کے خلاف جنگ میں صف اول میں رہی ہے۔ اور اب ان تنظیموں، ملا عمر کی طالبان اور گلبدین حکمت یار کی حذب اسلامی سے رابطے رکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کی یہ پالیسی ہے کہ ان تنظیموں کو مالی یا مادی مدد فراہم کی جا رہی ہے یا انہیں تریبت دی جا رہی ہے۔‘</p>
<p>سی این این نے پاکستان فوج کےترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے ساتھ اپنے اس انتہائی اہم انٹرویو کی تمام ویڈیو فوٹیج نہ ہی اپنی نشریات اور نہ ہی اپنی ویب سائٹ پر تاحال استعمال کی تاہم انہوں نے اس انٹرویو کے دوران میجر جنرل اطہر عباس کی زبان سے ادا کیئے گئے چند جملوں کی ویڈیو ریکارڈنگ استعمال کی ہے۔</p>
<p>اطہر عباس نےکہا کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد ان گروپوں کی مدد کرنے کی پاکستان کی پالیسی میں ’یو ٹرن‘ آیا اور یہ یکسر تبدیل کر دی گئی۔</p>
<p>ہلمند صوبے میں ’خنجر‘ کے نام سے فوجی کارروائی جاری ہے</p>
<p>اطہر عباس نے مزید کہا کہ ’ریاست نے اس پالیسی کو اپنایا، فوج نے اپنایا اور آئی ایس آئی نے اپنایا۔ اس کےبعد دنیا کا کوئی خفیہ ادارہ اپنے دروازے کسی دوسرے ادارے یا تنظیم پر بند نہیں کرتا۔ اس لیے یہ رابطے موجود ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ افغانستان میں وہ جو کچھ کر رہے ہیں آپ اس کی تائید کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ آپ اپنے مسائل میں گہرے ہوئے ہیں۔سی این این کے مطابق اطہر عباس نے مزید کہا کہ پاکستان فوج اب بھی طالبان کو امریکہ کے ساتھ بات کرنے کے لیے میز پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ جنگ بندی کرا کے فریقین میں باقاعدہ مذاکرات شروع کیئے جا سکیں۔</p>
<p>اطہر عباس نے کہا ’بالکل مذاکرات۔ بالآخر مذاکرات ہی طرف آنا پڑتا ہے اور میرے خیال میں اس پر کام ہو سکتا ہے اور یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔‘</p>
<p>سی این این نے ایک اعلی امریکہ اہلکار کے حوالے سے جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کہا کہ بش انتظامیہ طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے اور بھارت کے حوالے سے پاکستان کے لیے تحفظات پر بھارت سے بات کرنے پر تیار ہے۔</p>
<p>واشنگٹن میں موجود بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار جاوید سومرو نے کہا ہے کہ میجر جنرل اطہر عباس کے انٹرویو کے جو ویڈیو کلپس یا ٹکڑے نشر کیئے گئے ہیں ان کی یہ تشریح کی جاسکتی ہے کہ پاکستان فوج کے طالبان کمانڈروں سے روابط ہیں۔</p>
<p>طالبان سے مذاکرات اور بھارت سے معاملات طے کرنے والی بات پر جاوید سومرو نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان کی فوج کسی طرح کی پیشکش کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میجر جنرل اطہرعباس نے یہ ضرور کہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کے لیے تیار کرنے کے لیے کام کیا جا سکتا ہے اور یہ ممکن ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سی این این کے نامہ نگار مائیکل ویر نے اپنی رپورٹ میں اطہر عباس کے حوالے سے یہ تحریر کیا ہے طالبان سے مذاکرات شروع کرانے کے عوض پاکستان فوج بھارت سے معاملات طے کروانا چاہتی ہے۔</p>
<p>تاہم نامہ نگار نے نہ ہی اپنے تحریری مراسلے میں اس بارے میں اطہر عباس کے اپنے الفاظ میں کہا ہوا جملہ لکھا ہے اور نہ ہی اس کی ویڈیو ریکارڈنگ کا ٹکڑا نشر کیا گیا ہے۔</p>
<p>بی بی اردو سروس کے مدیرِ اعلی عامر احمد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو باقاعدہ انٹرویو سے پہلے پس پردہ بریفنگ دی جاتی ہے اور حساس نوعیت کے معاملات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے یہ بات باقاعدہ انٹرویو میں نہ کہی گئی ہو بلکہ پس پردہ بریفنگ میں سی این این کے نمائندے کو اس سے آگاہ کیا گیا ہو۔</p>
<p>سی این این کے نمائندے نے لکھا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو کے فوجی کمانڈر برملا کہتے ہیں کہ افغانستان کے چند اہم حصوں میں طالبان سے جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا اور امید کی جا سکتی ہے کہ مزید امریکی فوجیوں کے وہاں بھیجیے جانے سے اس تعطل کی صورت حال کو توڑا جا سکے۔ تاہم فوجی اور سفارتی حلقے اس بات پر کم و بیش متفق ہیں کہ امریکہ افغانستان میں جنگ جیت نہیں سکتا۔</p>
<p>اکثریتی رائے یہی ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کا بلآخر سیاسی اور اقتصادی حل تلاش کرنا پڑے گا اس کا فوجی حل ممکن نہیں ہے جس کے لیے طالبان سے بات کرنی پڑے گی۔ اس طرح کا حل ڈھونڈنے کے لیے امریکہ اور نیٹو کے پاکستان، بھارت، ایران اور ممکنہ طور پر سعودی عرب کی شمولیت ضروری ہو گی۔</p>
<p>نامہ نگار نے کہا کہ اب جب کہ پاکستان فوج نے کھل کر یہ بات کہہ دی ہے کہ اس کے طالبان سے رابطے ہیں اور وہ ایک کردار ادا کر سکتی ہے یہ سن دو ہزار ایک میں امریکی حملے سے شروع ہونے والی افغان جنگ کو ختم کرنے کا ایک اہم موقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/155/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فوجی ہیلی کاپٹر تباہ، 26 اہلکار ہلاک</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/146</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/146#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 04 Jul 2009 06:58:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[حادثے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=146</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار چھبیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔
سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فوجی ہیلی کاپٹر میں چھبیس اہلکار سوار تھے اور حادثے میں تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><strong>پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار چھبیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔</strong></p>
<p style="text-align: right;"><strong>سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فوجی ہیلی کاپٹر میں چھبیس اہلکار سوار تھے اور حادثے میں تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ </strong></p>
<p style="text-align: right;">پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ان کا کہنا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر اورکزئی ایجنسی اور خیبر ایجنسی کی سرحد پر گرا ہے اور اس میں بیس سے پچیس تک اہلکار اور افسر سوار تھے۔انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کُرم ایجنسی سے پشاور جا رہا تھا کہ راستے میں اسے حادثہ پیش آ گیا۔<a rel="attachment wp-att-152" href="http://www.haqmaujood.com/146/helikaptor"><img class="size-full wp-image-152 alignleft" title="helikaptor" src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/helikaptor.jpg" alt="helikaptor" width="226" height="170" /></a></p>
<p style="text-align: right;">انہوں نے کہا کہ تاحال حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی اس حادثے میں زخمی یا ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ فوجی جوان جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں پاکستانی فوج باقاعدہ طور پر آپریشن تو نہیں کر رہی لیکن چند ہفتے قبل پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے اپر اورکزئی ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی جس میں دو شہریوں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/146/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آخری مغل بادشاہ کی پڑپوتی کو نوکری</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/120</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/120#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 03 Jul 2009 11:05:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[شخصیات]]></category>
		<category><![CDATA[‮نڈیا‬]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=120</guid>
		<description><![CDATA[ہندوستان کا ایک سرکاری ادارہ کول انڈیا نے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی ایک غریب پڑپوتی کو غربت سے نکالنے کے لیے نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی مادہو اپنی ماں سلطانہ بیگم کے ہمراہ کلکتہ کے مضافات میں ایک چائے کا کھوکہ چلاتی ہیں۔مادھو بہادر شاہ ظفر کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">ہندوستان کا ایک سرکاری ادارہ کول انڈیا نے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی ایک غریب پڑپوتی کو غربت سے نکالنے کے لیے نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی مادہو اپنی ماں سلطانہ بیگم کے ہمراہ کلکتہ کے مضافات میں ایک چائے کا کھوکہ چلاتی ہیں۔مادھو بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی بیٹی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">محمد بیدار بخت کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی شدہ ہیں جبکہ مادھو کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کو سرکاری محکمے میں نوکری دینے کی وجہ آخری مغل بادشاہ کا 1857 کی جنگ آزادی میں عمدہ کردار ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">انڈیا کول اگلے ماہ ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کر رہی ہے جس میں وزیر کوئلہ نوکری کا باقاعدہ لیٹر بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کے حوالے کریں گے۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کی مدد کے لیے سرکاری محکمے میں نوکری کا سبب ایک بھارتی صحافی شیوناتھ جھا کی وہ مہم ہے جو وہ بھارت کے بھولے بسرے ہیروز کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کے بارے میں چلا رہے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">اس سے پہلے شیوناتھ جہا نے کاسیکل موسیقار بسم اللہ خان سے عدم توجہی کے بارے میں ایک مہم چلائے جس سے عظیم بسم اللہ خان اور ان کے اولاد کو کچھ مدد ملی۔</p>
<p style="text-align: right;">بھارت میں 1857 کی جنگ آزادی میں آخری مغل بادشاہ کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">اس سے پہلے شیوناتھ جہا نے سابق وزیر ریلوے لالو پرساد کے ذریعے 1857 کے ایک اور ہیرو تانتیا توپ کے دو پڑپوتیوں کو نوکری دلوائی تھی۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی شدہ جبکہ مادھو کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔محمد بیدار بخت کی بیوہ سلطانہ بیگم کا کہنا ہے کہ ان کی باقی چار بیٹیاں بھی غربت کی زندگی گزار رہی ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">بھارت کے ایک صنعت کار مادھوسدھن اگروال نے بھی بھارت شاہ ظفر کی پڑپوتی کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے جنگ آزادی پر قابو پانے کے بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کر کے رنگون بھجوا دیا تھا جہاں نے اپنے آخری شعر لکھا تھا۔</p>
<p>’کتنا ہے بد نصیب ظفر، دفن کے لئے<br />
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں‘</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/120/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سمندری بِرج کا افتتاح آج ہوگا</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/101</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/101#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 03 Jul 2009 07:55:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[‮نڈیا‬]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=101</guid>
		<description><![CDATA[ممبئی میں اپنی نوعیت کا پہلا سمندری برج جس کا یہاں کی عوام برسوں سے انتظار کر رہی تھی تیار ہو چکا ہے۔ اس کا افتتاح منگل کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ہاتھوں ہوگا لیکن پیر کی شب اس پر کی گئی آتش بازی اور اس کے خوبصورت نظارے کو دیکھنے کے لیے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="TEXT-ALIGN: right"><img class="alignnone size-full wp-image-110" title="sumadari buraj" src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/sumadari-buraj.jpg" alt="sumadari buraj" width="226" height="170" />ممبئی میں اپنی نوعیت کا پہلا سمندری برج جس کا یہاں کی عوام برسوں سے انتظار کر رہی تھی تیار ہو چکا ہے۔ اس کا افتتاح منگل کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ہاتھوں ہوگا لیکن پیر کی شب اس پر کی گئی آتش بازی اور اس کے خوبصورت نظارے کو دیکھنے کے لیے ممبئی کے ہزاروں شہری امڈ پڑے۔</p>
<p style="TEXT-ALIGN: right">رات آٹھ بج کر دس منٹ پر یہ برج آتش بازی اور لیزر شعاؤں سے جگمگا اٹھا۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر میں اے آر رحمن کی موسیقی کی دھن ’جے ہو‘ کے ساتھ دس منٹ تک یہ نظارہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اس کی روشنی کئی کلومیٹر دور تک دکھائی دے رہی تھی۔ کل اس کے افتتاح کے بعد تین دنوں تک اس برج پر عوام مفت سفر کر سکیں گے۔ اس کے بعد گاڑی کو اس پر سفر کرنے کے لیے پچاس روپیہ بطور ٹول ٹیکس ادا کرنے ہوں گے۔ اس پر موٹر سائیکل یا رکشہ لےجانے کی اجازت نہیں ہو گی۔</p>
<p style="TEXT-ALIGN: right">ممبئی کی بیسٹ کمپنی نے اس برج کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی خاطر بس چلانے کا ارادہ کیا ہے۔ بیسٹ مینجر اتم کھوپرگڑے کے مطابق یہ برج چونکہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا برج ہے اس لیے سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنے گا۔</p>
<div style="text-align: right;">
<div><img src="http://www.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2009/06/06/090606003325_bandra_sealink_226.jpg" alt="" width="226" height="170" />اس پُل کی تعمیر پر ڈیڑھ سو ارب روپے سے زیادہ کی رقم خرچ ہوئی ہے۔</div>
</div>
<p style="text-align: right;"> </p>
<p style="text-align: right;">اس برج کی آٹھ لینز ہوں گی اور یہ 5.6 کلومیٹر طویل ہے۔ باندرہ سے ورلی کا سفر جو انتہائی مصروف ترین اوقات میں چالیس منٹ کا ہوتا تھا پہلے سات منٹ میں طے کیا جا سکتا تھا لیکن ٹریفک کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے اس برج پر گاڑی کی رفتار کو کم کر دیا ہے۔ چار سگنل بنا دیے ہیں اس لیے اب یہ فاصلہ آٹھ سے دس منٹ میں طے ہو سکے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">نو سال کے عرصہ میں بننے والا ممبئی کا یہ سمندری برج جدید ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ ہندستان میں یہ پہلا کیبل سٹے سسٹم سے بنا برج ہے۔ کیبل سٹے سسٹم سے بنے اس برج پر 37,680 کلومیٹر تک سٹیل وائرز ہیں۔ اس کی اونچائی تینتالیس منزلہ عمارت تک کی ہے۔ ہندستان کنسٹرکشن کمپنی لمیٹیڈ جس نے اس برج کو بنایا ہے ان کے مطابق اس برج کا وزن پچاس ہزار افریقی ہاتھیوں کے وزن جتنا ہے۔ اس کے بنانے میں چھ ہزار مزدور دن رات کام کرتے رہے۔ اس کے تعمیر میں پانچ لاکھ پچھتر ہزار ٹن سیمینٹ کا استعمال کیا گیا۔</p>
<p style="text-align: right;">برج کی تعمیر کا منصوبہ سن دو ہزار میں تیار کر لیا گیا تھا لیکن ماہی گیروں اور ماحولیات کے تحفظ کی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی تھی اور اس لیے معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا۔ آخر کار سن دو ہزار چار میں اس کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔</p>
<p style="text-align: right;">اس برج کو بنانے میں ایک ہزار چھ سو چونتیس کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/101/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>راولپنڈی دھماکے کی تصاویر</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/84</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/84#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 03 Jul 2009 06:06:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[حادثے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=84</guid>
		<description><![CDATA[
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img class="alignnone size-full wp-image-98" title="rawalpindi dhamaka" src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/rawalpindi-dhamaka3.jpg" alt="rawalpindi dhamaka" width="466" height="262" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/84/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>متاثرین کیمپ: خواتین کی مصروفیات</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/41</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/41#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 02 Jul 2009 10:27:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>editor</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=41</guid>
		<description><![CDATA[
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img class="alignnone size-full wp-image-48" title="swat" src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/swat.jpg" alt="swat" width="466" height="262" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/41/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>رشوت روکنے کے لیے بغیر جیب کی پتلونیں</title>
		<link>http://www.haqmaujood.com/21</link>
		<comments>http://www.haqmaujood.com/21#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 01 Jul 2009 15:48:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>shahzad</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس‬]]></category>
		<category><![CDATA[انداز نرالے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.haqmaujood.com/?p=21</guid>
		<description><![CDATA[رشوت روکنے کی کوشش کے سلسلے میں نیپال کے بڑے ایئرپورٹ پر فرائض ادا کرنے والے عملے کو ایسی پتلونیں فراہم کی جائیں گی جن کی جیبیں نہیں ہوں گی۔
نیپال میں انسدادِ رشوت ستانی کے محکمے کا کہنا ہے کہ کھاٹمنڈو کے ہوائی اڈے پر رشوت کی شکایات بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں جس کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>رشوت روکنے کی کوشش کے سلسلے میں نیپال کے بڑے ایئرپور<img class="size-full wp-image-22 alignleft" title="nepal" src="http://www.haqmaujood.com/wp-content/uploads/2009/07/nepal.jpg" alt="nepal" width="226" height="170" />ٹ پر فرائض ادا کرنے والے عملے کو ایسی پتلونیں فراہم کی جائیں گی جن کی جیبیں نہیں ہوں گی۔</p>
<p>نیپال میں انسدادِ رشوت ستانی کے محکمے کا کہنا ہے کہ کھاٹمنڈو کے ہوائی اڈے پر رشوت کی شکایات بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ جیبوں کے بغیر پتلونوں سے حکام کو ’بے ضابطیگوں‘ کو روکنے میں مدد ملے گی۔‘</p>
<p>یہ اقدام وزیرِ اعظم کے اس بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ کرپشن کی وجہ سے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔</p>
<p>اختیارات کے غلط استعمال کی تحقیق کرنے والے کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے ہوائی اڈے پر ایک ٹیم بھیجی تھی جس کا کام مسافروں کے ساتھ حکام اور عملے کے رویے پر مبنی شکایات کو دیکھنا تھا۔ ’ہم نے دیکھا کہ ایسی شکایات درست تھیں۔‘</p>
<p>اے ایف پی کے مطابق اس اقدام کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ایئرپورٹ پر عملے کو پہننے کے لیے ایسی پتلونیں دی جائیں جن کی جیبیں نہ ہوں۔ سول ایوی ایشن کی وزارت کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.haqmaujood.com/21/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
