پاکستان

تصفح حسب التصنيف ...

 

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ملاقات

Wednesday 3 February 2010

اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کو وزیراعظم ہاﺅس میں ملاقات کی۔ وزیر خارجہ نے وزیراعظم کو لندن میں افغانستان کے بارے میں ہونے والی عالمی کانفرنس سے متعلق معاملات سے آگاہ کیا۔

طالبان قتل عام کی تحقیق ہوگی

Tuesday 14 July 2009

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں سن دو ہزار دو میں ہونے والے مبینہ قتل عام کے بارے میں معلومات حاصل کر ہے ہیں۔ اسی دوران الزام لگایا جا رہا کہ سابق صدر جارج بُش نے اس واقعے کی تحقیقات کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ سن دو ہزار ایک کے آخر میں جن سینکڑوں یا بعض اندازوں کے مطابق ہزاروں طالبان جنگجوؤں نے امریکہ کی حمایت والے شمالی اتحاد کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ لوگ امریکہ کے اتحادی جنرل رشید دوستم کی تحویل میں تھے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق

سن دو ہزار میں پہلی بار الزام لگایا گیا کہ ان طالبان جنگجوؤں کو بند کنٹینروں میں چھوڑ دیا گیا جہاں ان کا دم گھٹ گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کنٹینروں پر باہر سے گولیاں برسائی گئی تھیں۔teel

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے سرکاری حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے کہا تھا کہ بش انتظامیہ کے افسران نے بار بار اس واقعے کی تفتیش کی حوصلہ شکنی کی تھی۔اخبار نے اہلکار کے حوالے سے کہا کہ اس وقت کسی نے تفتیش سے انکار نہیں کیا تھا لیکن کسی نے ایسا کرنے کے لیے ’ہاں‘ بھی نہیں کہا۔

معاملہ دوبارہ اس وقت اہم ہوگیا جب جنرل رشید دوستم کو گزشتہ مہینے ایک بار پھر افغانستان کے صدر کا ملٹری چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا۔ دوستم اس وقت ترکی میں ہیں۔ انہیں گزشتہ برس ایک سیاسی حریف پر بندوق تاننے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا تھا۔

صدر اوباما نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں کوئی قوم جنگ میں بھی نہیں بھول سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات سامنے آتی ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کو ہماری حمایت حاصل تھی تو ہمیں اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔

میاں چنوں دھماکے میں تیرہ ہلاک

Tuesday 14 July 2009

جنوبی پنجاب کے شہر میاں چنوں کے نواحی گاؤں میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو سے تیرہ ہو گئی جب کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ستر کے قریب لوگ زخمی ہوئے تھے۔

تحصیل ہیڈ کواٹر ہپستال کے سپرنٹنڈنٹ نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تیرہ تک جا پہنچی ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔

دھماکہ میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک ایک سو انتیس پندرہ ایل کے وسط میں واقع ایک دینی مدرسے میں صبح دس بجے ہوا۔

یہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ پورا گاؤں لرز اٹھا اور اردگرد کے متعدد گھر مسمار ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ایک جانب کے تمام پختہ اور کچے مکان تباہ ہوگئے اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔

ریجنل پولیس افسر ملتان عارف اکرام نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دھماکے میں بارہ سے زیادہ گھر بھی مسمار ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹا کر زخمیوں کو نکالنا شروع کیا اور کوئی ایک گھنٹے تک سرکاری امدادی ٹیمیں بھی پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو قریبی تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

ہپستال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نعیم صادق کے مطابق ان کے ہسپتال میں ابتدائی طور پر جو نو لاشیں لائی گئیں ان میں سے سات بچوں کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ستر سے زائد زخمیوں میں بہت سے جلے ہوئے ہیں اور متعدد کی حالت نازک ہے۔swat

پولیس ابھی تک اس پراسرار دھماکے کی وجوہات کا تعین نہیں کرسکی ہے۔ ریجنل پولیس افسر کا کہنا ہے کہ وہ ابھی دھماکے کی نوعیت کے بارے میں نہیں بتاسکتے۔ ضلعی پولیس افسر کامران خان جائے وقوعہ پر موجود تھے انہوں نے کہا کہ ان کا اندازہ ہے کہ دھماکہ خیز مواد پہلے سے کسی گھر کے اندر موجود تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ بظاہر ایک سکول ٹیچر، ماسٹر ریاض کا گھر تھا جہاں مذہبی تنظیموں کے لوگوں کا آناجانا تھا۔ اس گھر کے ساتھ ہی ایک مدرسہ ہے جس کا انتظام بھی انہی کے پاس تھا۔

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کےمطابق جنوبی پنجاب میں صوبے کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ مذہبی رجحانات اور شدت پسندی پائی جاتی ہے۔ شدت پسندی کے الزام میں حالیہ گرفتار اور مفرور پنجاب کے زیادہ ترافراد کے تعلق صوبے کےجنوبی حصے سے ہے۔

میاں چنوں کے ایک چھوٹے سے قصبے میں دھماکے کے بعد پولیس اور خفیہ سکیورٹی ایجنسیوں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں اور تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اردگرد کے علاقوں میں بھی خوف وہراس پایا جاتا ہے۔

پیٹرولیم آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

Saturday 11 July 2009

صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کاربن ٹیکس کی معطلی کے بعد جاری کیا گیا تھا اور اس کے نفاذ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر اسی سطح پر پہنچ گئی تھی جہاں وہ کاربن ٹیکس کے ساتھ تھیں۔

کلِک مہنگے پیٹرول پر احتجاج: ویڈیو

جمعہ کو اس آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں شعیب شاہد ایڈوکیٹ کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس نہ صرف آئین کی شق چار، آٹھ اور چودہ سے متصادم ہے بلکہ اس سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل اکرام چودھری ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ صدر کے پاس کسی آرڈیننس کے تحت ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے اس لیے انہوں نے عدالت سے اس آرڈیننس کے خلاف فوری طور پر حکمِ امتناعی جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
090710224404_us_soldier_tired_226
انہوں نے اپیل کی کہ اس درخواست کی سماعت پیر تیرہ جولائی سے کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سپریم کورٹ میں کاربن ٹیکس کے خلاف ن لیگ کے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا کی اصل درخواست اب بھی زیرِ سماعت ہے جبکہ جمعرات کو نمٹائی جانے والی درخواست اسی معاملے پر دائر کی گئی ایک دیگر درخواست تھی۔ خیال رہے کہ اکرام چودھری سینیٹر جھگڑا کے بھی وکیل ہیں۔

خیال رہے کہ اکرام چودھری نے گزشتہ روز بھی عدالت میں کاربن ٹیکس کے خلاف دائر کی جانے والے درخواست کی سماعت کے دوران صدارتی آرڈنینس کو عدالتی کارروائی میں مداخلت کے مترادف قرار دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ’ اگر اس آرڈنینس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو پھر اس کو دیکھیں گے‘۔

سپریم کورٹ نے سات جولائی کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ کاربن ٹیکس معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کے نام سے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اتنا ہی اضافہ کر دیا جتنی کہ یہ قیمتیں سپریم کورٹ کی جانب سے کاربن ٹیکس کی عارضی طور پر معطلی کے بعد کم ہوئی تھیں۔

صدر کے پاس کسی آرڈیننس کے تحت ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے
اکرام چودھری ایڈوکیٹ
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کی شام ایک نیوز بریفنگ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے بعد صدر کی طرف سے قیمتیں بڑھانے کے بارے میں جاری کردہ آرڈیننس کا مکمل دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کے مشورے پر جاری ہوا ہے۔ وزیراعظم نے عدالتی فیصلے کے برعکس پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں آرڈیننس کے متعلق بات کرتے ہوئے کافی محتاط الفاظ کا استعمال کیا اور یہ تاثر دیا کہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور کرتی رہے گی لیکن تمام اداروں کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ پارلیمان کو بالا دست بنانا چاہیے اور پارلیمان بالادست عوام سے ہوتی ہے اور سولہ کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں نے تاریح میں پہلی بار متفقہ طور پر بجٹ منظور کیا جس میں کاربن ٹیکس ملکی حالات کی وجہ سے لگایا گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’آپ مجھے بتائیں کہ میں نے کون سا غلط کام کیا ہے؟۔’ہم تو عدلیہ سے کہتے ہیں کہ ہمارا موقف سنیں ہمارے دلائل سنیں ۔۔ جو مالی مشکلات ہیں اس بارے میں ہمارے ماہرین کی رائے سنیں۔۔ اس وقت ہمارے ماہرین کی ٹیم بیرون ملک آئی ایم ایف سے ڈیل کر رہی ہے اور اس صورتحال میں ان کی کیا پوزیشن ہوگی؟‘

انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا آرڈیننس اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو پیش کیا ہے اور اس پر جو بھی عدلیہ فیصلہ کرے گی حکومت اس کا احترام کرے گی ۔۔ ہمیں یقین ہے کہ عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ پارلیمان کی خودمختاری کے حق میں ہوگا‘۔

ادھر پاکستان کے مختلف شہروں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کو بھی متعدد تنظیموں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو بھی کراچی اور لاہور میں وکلاء اور مزدور تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے جن میں نہ صرف حکومت بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی تھی۔

’طالبان اور آئی ایس آئی کے رابطے، فوج کا اعتراف‘

Saturday 11 July 2009

امریکہ کے ٹی وی چینل ’سی این این‘ نے پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج طالبان کمانڈروں بشمول ملا عمر سے نہ صرف رابطے میں ہے بلکہ انہیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ بھی کر سکتی ہے۔

سی این این نے کہا ہے کہ میجر جنرل اطہر عباس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے کے عوض چاہتا ہے کہ امریکہ بھارت پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے پاکستان کے لیے کچھ آسانیاں پیدا کرنے میں مدد کرے۔

سی این این کے مطابق میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ سویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکی اتحادی افغان گروپوں سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے بڑے قریبی روابط تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی اب بھی طالبان کمانڈروں ملاء عمر، جلال الدین حقانی، ملانذیر اور گلبدین حکمت یار سے رابطے میں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اطہر عباس نے کہا کہ ’ہاں یہ درست ہے کہ آئی ایس آئی سویت یونین کے خلاف جنگ میں صف اول میں رہی ہے۔ اور اب ان تنظیموں، ملا عمر کی طالبان اور گلبدین حکمت یار کی حذب اسلامی سے رابطے رکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کی یہ پالیسی ہے کہ ان تنظیموں کو مالی یا مادی مدد فراہم کی جا رہی ہے یا انہیں تریبت دی جا رہی ہے۔‘

سی این این نے پاکستان فوج کےترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے ساتھ اپنے اس انتہائی اہم انٹرویو کی تمام ویڈیو فوٹیج نہ ہی اپنی نشریات اور نہ ہی اپنی ویب سائٹ پر تاحال استعمال کی تاہم انہوں نے اس انٹرویو کے دوران میجر جنرل اطہر عباس کی زبان سے ادا کیئے گئے چند جملوں کی ویڈیو ریکارڈنگ استعمال کی ہے۔

اطہر عباس نےکہا کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد ان گروپوں کی مدد کرنے کی پاکستان کی پالیسی میں ’یو ٹرن‘ آیا اور یہ یکسر تبدیل کر دی گئی۔

ہلمند صوبے میں ’خنجر‘ کے نام سے فوجی کارروائی جاری ہے

اطہر عباس نے مزید کہا کہ ’ریاست نے اس پالیسی کو اپنایا، فوج نے اپنایا اور آئی ایس آئی نے اپنایا۔ اس کےبعد دنیا کا کوئی خفیہ ادارہ اپنے دروازے کسی دوسرے ادارے یا تنظیم پر بند نہیں کرتا۔ اس لیے یہ رابطے موجود ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ افغانستان میں وہ جو کچھ کر رہے ہیں آپ اس کی تائید کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ آپ اپنے مسائل میں گہرے ہوئے ہیں۔سی این این کے مطابق اطہر عباس نے مزید کہا کہ پاکستان فوج اب بھی طالبان کو امریکہ کے ساتھ بات کرنے کے لیے میز پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ جنگ بندی کرا کے فریقین میں باقاعدہ مذاکرات شروع کیئے جا سکیں۔

اطہر عباس نے کہا ’بالکل مذاکرات۔ بالآخر مذاکرات ہی طرف آنا پڑتا ہے اور میرے خیال میں اس پر کام ہو سکتا ہے اور یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔‘

سی این این نے ایک اعلی امریکہ اہلکار کے حوالے سے جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کہا کہ بش انتظامیہ طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے اور بھارت کے حوالے سے پاکستان کے لیے تحفظات پر بھارت سے بات کرنے پر تیار ہے۔

واشنگٹن میں موجود بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار جاوید سومرو نے کہا ہے کہ میجر جنرل اطہر عباس کے انٹرویو کے جو ویڈیو کلپس یا ٹکڑے نشر کیئے گئے ہیں ان کی یہ تشریح کی جاسکتی ہے کہ پاکستان فوج کے طالبان کمانڈروں سے روابط ہیں۔

طالبان سے مذاکرات اور بھارت سے معاملات طے کرنے والی بات پر جاوید سومرو نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان کی فوج کسی طرح کی پیشکش کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میجر جنرل اطہرعباس نے یہ ضرور کہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کے لیے تیار کرنے کے لیے کام کیا جا سکتا ہے اور یہ ممکن ہو سکتا ہے۔

سی این این کے نامہ نگار مائیکل ویر نے اپنی رپورٹ میں اطہر عباس کے حوالے سے یہ تحریر کیا ہے طالبان سے مذاکرات شروع کرانے کے عوض پاکستان فوج بھارت سے معاملات طے کروانا چاہتی ہے۔

تاہم نامہ نگار نے نہ ہی اپنے تحریری مراسلے میں اس بارے میں اطہر عباس کے اپنے الفاظ میں کہا ہوا جملہ لکھا ہے اور نہ ہی اس کی ویڈیو ریکارڈنگ کا ٹکڑا نشر کیا گیا ہے۔

بی بی اردو سروس کے مدیرِ اعلی عامر احمد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو باقاعدہ انٹرویو سے پہلے پس پردہ بریفنگ دی جاتی ہے اور حساس نوعیت کے معاملات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے یہ بات باقاعدہ انٹرویو میں نہ کہی گئی ہو بلکہ پس پردہ بریفنگ میں سی این این کے نمائندے کو اس سے آگاہ کیا گیا ہو۔

سی این این کے نمائندے نے لکھا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو کے فوجی کمانڈر برملا کہتے ہیں کہ افغانستان کے چند اہم حصوں میں طالبان سے جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا اور امید کی جا سکتی ہے کہ مزید امریکی فوجیوں کے وہاں بھیجیے جانے سے اس تعطل کی صورت حال کو توڑا جا سکے۔ تاہم فوجی اور سفارتی حلقے اس بات پر کم و بیش متفق ہیں کہ امریکہ افغانستان میں جنگ جیت نہیں سکتا۔

اکثریتی رائے یہی ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کا بلآخر سیاسی اور اقتصادی حل تلاش کرنا پڑے گا اس کا فوجی حل ممکن نہیں ہے جس کے لیے طالبان سے بات کرنی پڑے گی۔ اس طرح کا حل ڈھونڈنے کے لیے امریکہ اور نیٹو کے پاکستان، بھارت، ایران اور ممکنہ طور پر سعودی عرب کی شمولیت ضروری ہو گی۔

نامہ نگار نے کہا کہ اب جب کہ پاکستان فوج نے کھل کر یہ بات کہہ دی ہے کہ اس کے طالبان سے رابطے ہیں اور وہ ایک کردار ادا کر سکتی ہے یہ سن دو ہزار ایک میں امریکی حملے سے شروع ہونے والی افغان جنگ کو ختم کرنے کا ایک اہم موقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

فوجی ہیلی کاپٹر تباہ، 26 اہلکار ہلاک

Saturday 4 July 2009

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار چھبیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فوجی ہیلی کاپٹر میں چھبیس اہلکار سوار تھے اور حادثے میں تمام افراد ہلاک ہو گئے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر اورکزئی ایجنسی اور خیبر ایجنسی کی سرحد پر گرا ہے اور اس میں بیس سے پچیس تک اہلکار اور افسر سوار تھے۔انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کُرم ایجنسی سے پشاور جا رہا تھا کہ راستے میں اسے حادثہ پیش آ گیا۔helikaptor

انہوں نے کہا کہ تاحال حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی اس حادثے میں زخمی یا ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ فوجی جوان جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں پاکستانی فوج باقاعدہ طور پر آپریشن تو نہیں کر رہی لیکن چند ہفتے قبل پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے اپر اورکزئی ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی جس میں دو شہریوں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جیکٹ تیار کرنے والے دہشت گرد زاہد اقبال عرف ادریس کشمیری کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا، ملزم دارالحکومت میں بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا

Friday 3 July 2009

اسلام آباد ۔ 3 جولائی وفاقی پولیس نے خود کش بم اورخودکش جیکٹ تیارکرنے  والے ایک دہشت گرد زاہد اقبال عرف ادریس کشمیری کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا۔ ملزم دارالحکومت میں بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ میجر جنرل (ر) امیر فیصل خان علوی کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے کئی اہم انکشاف کئے ہیں اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق زاہد اقبال عرف ادریس کشمیری دہشت گرد کا تعلق الیاس کشمیری گروپ سے ہے اور وہ میران شاہ شمالی وزیرستان اور کالاڈھاکہ میں بم اور خودکش جیکٹ تیار کرتا ہے اور رائفل سے نشانہ بنانے کابھی ماسٹر ہے۔ دہشت گرد نے داڑھی منڈوا کر پاسپورٹ اور شناختی کارڈ حاصل کر رکھا تھا اور عنقریب ایک بڑی تحریب کاری کی کارروائی کرنےوالا تھا جس کو ڈی آئی جی آپریشن کی سربراہی میں سی آئی ڈی اسلام آباد پولیس نے انتہائی مہارت اور ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا۔ 

کوئی نیا صوبہ نہیں بنے گا: گیلانی

Friday 3 July 2009

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے واضح الفاظ میں کہا ہے ملک میں کوئی090417131343_raza_gillani_283 نیا صوبہ نہیں بنے گا اور اس معاملے کو اس موقع پر اٹھانا ملکی عدم استحکام میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے سوات میں فوجی چھاؤنی کے قیام کا بھی دفاع کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پانچویں صوبے کی تجویز انہیں قابل قبول نہیں اور یہ ان کی جماعت کی سوچ اور منشور کے خلاف ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف عناصر کی جانب سے صوبہ پنجاب کو توڑ کر پانچواں صوبہ بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم خیال ہے کہ وزیر اعظم کے اس بیان سے یہ بحث اب ختم ہوجائے گی۔

سوات آپریشن کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ میں فوج کو کامیابی ویسے ہی نہیں ملی ہے بلکہ اس کے لیے انہوں نے قربانیاں دی ہیں لہذا صاف کیے جانے والے علاقوں میں چھاؤنیاں قائم کر دی جائیں گی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پولیس فورس کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنا تعاون جاری رکھیں جس کی ضرورت مالاکنڈ آپریشن کے خاتمے کے بعد بھی انہیں رہے گی کیونکہ بقول ان کے مستقبل کی پالیسی وہاں کی مقامی آبادی کی مدد سے چلائی جائے گی۔

وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس ماہ کے وسط میں شرم الشیخ میں ان کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات متوقع ہے اور انہیں امید ہے کہ اس سے تعلقات کو بہتری کی جانب لے جانے میں مدد ملے گی۔

بجلی کے نرخوں میں اضافے کے معاملے پر آئی ایم ایف سے بات کرینگے: شوکت ترین

Thursday 2 July 2009

اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز) مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے معاملہ پر آئی ایم ایف’ ورلڈ بنک اور دیگر اداروں سے بات چیت کریں گے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 3 سے 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عوام پریشان ہیں اور اس پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

ملک بھر میں بجلی کا مسلسل نو گھنٹے کا بریک ڈاﺅن

Thursday 2 July 2009

لاہور (نیوز رپورٹر/ مانیٹرنگ نیوز) ملک بھر میں بجلی کا مسلسل9 گھنٹے کا بریک ڈاﺅن شروع ہے۔ ملک کے طول وعرض میں آدھے گھنٹے کےلئے بجلی آتی ہے اور 3گھنٹے کےلئے غائب ہو جاتی ہے۔ وسطی پنجاب اورجنوبی پنجاب کے157گاﺅں میں 4 دن سے بجلی بند ہے۔ صارفین پیپکو کےخلاف نعرے بازی اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ بجلی کے نظام میں خسارہ4700 میگاواٹ تک ہوگیا ہے۔ واپڈا تنصیبات کو نقصان نہ پہنچے پولیس کی اضافی نفری مختلف گرڈ سٹیشن اور دفاتر پر تعینات کر دی گئی ہے۔ دوسری طرف واپڈا اور پیپکو ذرائع کا کہنا ہے کہ منگلا ڈیم میں پاور کیبلز کا مسئلہ حل ہونے تک منگلا ڈیم کا 1100میگاواٹ کا اضافی شارٹ فال بڑھ کر1700 میگواٹ ہوجائےگا۔ واپڈا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ دورانیے میں کمی نہیں آئےگی۔ مانیٹرنگ نیوز کے مطابق شدید حبس اور گرمی میں لاہور کے مختلف علاقوں میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 14 سے 16 گھنٹے تک پہنچ جانے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور شہری رات کھلے آسمان تلے جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔