شخصیات

تصفح حسب التصنيف ...

 

اس قضیے کو بتیس سال گزر گۓ ہیں لیکن اس قضیے پر شاندار نظم ’شاخ کربلا پر اکیلے کبوتر کا نوحہ‘ لکھنے والے میرے شاعر دوست اور اب ناروے میں جلاوطن مسعود منور کہتے ہیں ’میں ہر رات سونے سے پہلے بھٹو کا ماتم کرتا ہوں‘۔

Thursday 14 April 2011

مسعود منور جیالے بھی نہیں وہ بس ایک شاعر ہیں لکھاری ہیں۔ انہوں نے بھٹو کی پھانسی پر لکھا تھا:

’رات کے دو بجے تم سبھی سو چکے تھے مگر وہ ابھی جاگتا تھا‘

پاکستان اور پاکستان سے باہر ایسے بے شمار لوگ ہوں گے جو بھٹو کی پھانسی پر ہر رات ہر دن اور ہر وقت ماتم کرتے ہوں گے۔

اب بھٹو کے ایسے ماتم داروں کے لیے یقیناً یہ تشفی والی بات ہے کہ اس کے نام پر ووٹ لے کر آنے والی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں عوام میں سب سے مقبول وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کا مقدمہ پھر سے کھولنے اور چلانے کی درخواست ملک کی سپریم کورٹ میں دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وہ سوجے ہوئے مسوڑوں کے ساتھ تین روز تک پاکستان کی سپریم کورٹ کے سامنے اپنی سزائے موت کے خلاف اپنے دفاع میں بیان جاری رکھے ہوئے تھا۔ جو بعد میں کافکا کے دی ٹرائیل کی طرح ’اگر مجھے قتل کیا گیا‘ کے نام سے شاہکار کتابی شکل میں موجود ہے

وہ جو کہتے ہیں نا کہ جنگ کے میدان کے بعد دنیا کی سب سے بڑی نا انصافیاں عدالتوں کے کٹہروں میں ہی ہوئي ہیں۔ تو اسی طرح اگر کہا جائے کہ پاکستان میں جو سب سے بڑی سیاسی ناانصافیاں ہوئی ہیں تو ان میں سے ایک بڑی اور تاریخی نا انصافی بھٹو کی پھانسی بھی ہے۔

وہ سوجے ہوئے مسوڑوں کے ساتھ تین روز تک پاکستان کی سپریم کورٹ کے سامنے اپنی سزائے موت کے خلاف اپنے دفاع میں بیان جاری رکھے ہوئے تھا۔ جو بعد میں کافکا کے ’دا ٹرائیل‘ کی طرح ’اگر مجھے قتل کیا گیا‘ کے نام سے شاہکار کتابی شکل میں موجود ہے۔

میں ایسے کل کے نوجوان کو جانتا ہوں جسے ملٹری کورٹ نے اس لیے سزا سنائی تھی کہ اس نوجوان کو بھٹو کے اس عدالتی بیان کی کتابی شکل کو فوٹو سٹیٹ کرواتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستان میں ایسے ہزاروں نوجوان اب کسے یاد بھی نہیں:

’پاکستان کے عوام جمہوریت چاہتے ہیں

۔۔۔ملک آئین

۔۔۔صوبے خود مختاری

۔۔۔تم جنرل ضیاء الحق سیاست کے ساتھ فٹبال کھیلنا چھوڑ دو۔‘

یہ بھٹو نے اپنے اسی بیان میں کہا تھا۔

حیرت ہے کہ سزائے موت کی کال کھوٹری بھی اس سے بھٹو ہونا نہیں چھین سکی تھی۔ وہی حس مزاح، وہی جملوں کی کاٹ، غصہ، الفاظ کے خزینے، ان کا انتخاب اور روانی۔ فرانسیسی اصطلاحات سے لے کر جہان خانی انصاف جیسے سندھی مذاحیہ جملے اور سرائیکی شاعری تک بھٹو نے اپنے اس دفاعی بیان میں استعمال کیے تھے ’می لارڈ ہم اسے کو جہان خانی انصاف کہتے ہیں‘۔

اس کی اس کتاب میں جا بجا پیش گوئیاں ہیں۔ ایک جگہ اس نے کہا تھا ’میرے ملک کے لوگ بھی بونا پارٹ ازم سے جان چھڑا لیں گے۔ فرانس میں وہ اٹھارہ سو اٹھاسی تھا اور یہ انیس سو اٹھاسی ہوگا‘۔

سب نے دیکھا کہ انیس سو اٹھاسی ضیاء الحق اور اس کے فوجی آمرانہ عہد کے خاتمے اور پاکستان میں عارضی ہی سہی جمہوریت کی بحالی کا سال ثابت ہوا۔

جہان خانی انصاف کا مطلب کیا ہوتا ہے، ہر کو‏‏ئی سندھی سمجھتا ہے۔ بھٹو کے ساتھ بھی جہان خانی انصاف ہوا تھا۔

جہان خان اس شخص کو کہتے ہیں جو غلط کام بھی کرے اور یہ فیصلہ بھی خود کرے کہ وہ کام غلط تھا یا صحیح۔ ’بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی‘

جج متعصب، جرنیل اس کے خون کے پیاسے اور دوست دغا باز نکلے تھے۔ سب سے بڑی بات کہ جیسا کہ ہم نے سنا ایک پھندا اور دو گردنیں تھیں۔

’ہمارے کسی نوکر کو بھی کبھی کوئی س‍زا نہیں ہو ئی‘۔ بہت برس ہوئے کہ بھٹو کی پہلی بیوی شیریں امیر بیگم نے ایک تاسف اور اپنے حساب سے ایک انٹرویو کے دوران مجھ سے کہا تھا۔

بھٹو کی میت: چار جنوری 1979

جسٹس دوراب پٹیل نے جنہوں نے بھٹو کے خلاف سپریم کورٹ کی بینچ میں اپیل سننے والے ججوں میں شامل تھے اور اختلافی فیصلہ دیا تھا انیس سو نوے کے ابتدائی برسوں میں اپنی زندگي کے آخری دنوں میں میری اس وقت کی ایک صحافی ساتھی کو ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح روز اول سے دورانِ مقدمہ، اپیل اور نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران نہ صرف بھٹو کے ساتھ انتہائی تعصب برتا گیا بلکہ وعدہ معاف گواہ اور ججوں کو بھی ضیاءالحق کی فوجی انتظامیہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انوار الحق کی طرف سے دھونس، دھمکی اور رعایتوں میں رکھا گیا تھا۔

جسٹس دوراب پٹیل نے میری صحافی ساتھی کو بتایا تھا کہ جسٹس انوارالحق نے جن کی خود بھٹو سے ذاتی پرخاش تھی انہیں بھٹو کی سپریم کورٹ کے سامنے اپیل کی سماعت کے دنوں میں دبے الفاظ میں کہا تھا کہ ’خیال رکھنا آپ کا تعلق اقلیت سے ہے‘۔

جسٹس دوراب پٹیل نے میری ساتھی صحافی کو بتایا تھا کہ دوران مقدمہ قتل لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کو یہ اطلاعات تھیں کہ وعدہ معاف گواہ غلام حسین جو کہ کردار کے لحاظ سے بھی انتہائی خراب ریکارڈ رکھتا تھا کو علاج کے لیے کمبائينڈ ملٹری ہسپتال میں رکھا گیا تھا اور جہاں ان سے فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی کے عملدار ملنے آیا کرتے تھے۔

وعدہ معاف گواہ غلام حسین کی گواہی کی بنیاد پر ذوالفقار علی بھٹو کو موت کی سزا سنائي گئی تھی۔

بھٹو کی پھانسی کے بعد ملک جس بحران میں چلا گیا آج تک اسی بحران میں ہے

اور یہ بھی کہ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس نے بھٹو کی نظر ثانی کی درخواست سننے والے ججوں سے فیصلہ جلدی اور اس دن سنانے کے لیے کہا تھا جس دن فوجی آمر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاءالحق سیرت النبی کے جلسے سے خطاب کرنے لاہور میں موجود ہوں گے- غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی کہتی ہیں کہ صدر جسٹس انوار الحق نے گورنر ہاؤس لاہور میں ضیاءالحق سے ملاقات بھی کی تھی۔

بھٹو کی پھانسی کے بعد ملک جس بحران میں چلا گیا آج تک اسی بحران میں ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ترکی کے جنرل گرسل سے بھٹو نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عدنان میندرس کو پھانسی دینے کے بعد ترکی کا بحران ختم نہیں ہوگا بلکہ ترکی میں بحران پیدا ہی وزیر اعظم عدنان میندرس کی پھانسی کے بعد ہوگا۔

مجھے ملتان سے تعلق رکھنے والا ایک بہت ہی پرانا پی پی پی جیالا جو اب فلوریڈا میں رہتا ہے کل کہہ رہا تھا ’ہمارے نزدیک تو وفاداری کی ایک ہی کسوٹی ہے کہ بھٹو کی پھانسی والی رات کون کس کے ساتھ تھا‘۔

مجھے لگا بھٹو کی پھانسی والی رات پاکستان میں آج تک ختم نہیں ہوئی۔

Adab e Nabi Respect of the holy Prophet PBUH

Monday 5 April 2010

respect-of-prophet-adab-e-nabi

آخری مغل بادشاہ کی پڑپوتی کو نوکری

Friday 3 July 2009

ہندوستان کا ایک سرکاری ادارہ کول انڈیا نے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی ایک غریب پڑپوتی کو غربت سے نکالنے کے لیے نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی مادہو اپنی ماں سلطانہ بیگم کے ہمراہ کلکتہ کے مضافات میں ایک چائے کا کھوکہ چلاتی ہیں۔مادھو بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی بیٹی ہیں۔

محمد بیدار بخت کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی شدہ ہیں جبکہ مادھو کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔

بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کو سرکاری محکمے میں نوکری دینے کی وجہ آخری مغل بادشاہ کا 1857 کی جنگ آزادی میں عمدہ کردار ہے۔

انڈیا کول اگلے ماہ ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کر رہی ہے جس میں وزیر کوئلہ نوکری کا باقاعدہ لیٹر بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کے حوالے کریں گے۔

بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کی مدد کے لیے سرکاری محکمے میں نوکری کا سبب ایک بھارتی صحافی شیوناتھ جھا کی وہ مہم ہے جو وہ بھارت کے بھولے بسرے ہیروز کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کے بارے میں چلا رہے ہیں۔

اس سے پہلے شیوناتھ جہا نے کاسیکل موسیقار بسم اللہ خان سے عدم توجہی کے بارے میں ایک مہم چلائے جس سے عظیم بسم اللہ خان اور ان کے اولاد کو کچھ مدد ملی۔

بھارت میں 1857 کی جنگ آزادی میں آخری مغل بادشاہ کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔

اس سے پہلے شیوناتھ جہا نے سابق وزیر ریلوے لالو پرساد کے ذریعے 1857 کے ایک اور ہیرو تانتیا توپ کے دو پڑپوتیوں کو نوکری دلوائی تھی۔

بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی شدہ جبکہ مادھو کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔محمد بیدار بخت کی بیوہ سلطانہ بیگم کا کہنا ہے کہ ان کی باقی چار بیٹیاں بھی غربت کی زندگی گزار رہی ہیں۔

بھارت کے ایک صنعت کار مادھوسدھن اگروال نے بھی بھارت شاہ ظفر کی پڑپوتی کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔

بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے جنگ آزادی پر قابو پانے کے بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کر کے رنگون بھجوا دیا تھا جہاں نے اپنے آخری شعر لکھا تھا۔

’کتنا ہے بد نصیب ظفر، دفن کے لئے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں‘

وینا کی طرف سے سوات متاثرین کی امداد

Thursday 2 July 2009

فنکار برادری میں سے سب سے پہلے سوات کے متاثرین کے لیے اپنی جیب سے فنڈ دینے والی پاکستان فلم انڈسٹری اور ٹیلی ویژن کی اداکارہ وینا ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ امداد شہرت کے لیے نہیں کی بلکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے اور جذبہء حب الوطنی کے سبب کی ہے۔

وینا ملک نے بدھ کو پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کو سوات متاثرین کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے۔

وینا ملک کا کہنا تھا کہ سوات سے بے گھر ہو کر آنے والے لوگ بھی ’ہمارے ہم وطن ہیں اور وہ جن تکلیف دہ حالات سے اس وقت گزر رہے ہیں ہمیں ان کا احساس کرنا چاھیے‘۔انہوں نے کہا کہ وہ روز میڈیا پر ان کی تکالیف دیکھتی ہیں اس لیے انہیں خیال آیا کہ وہ جس قدر ممکن ہے ان کی مدد کریں۔

وینا ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ فنکار برادری کے کچھ افراد لوگوں سے چندہ لینے کی مہم کا حصہ بنے۔انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ بھی اچھا ہے لیکن ’میں یہ سمجھتی ہوں کہ لوگوں سے چندہ مانگنے کی بجائے فلم اور ٹی وی کے اداکاروں کو خود اپنے پاس سے بھی سوات کےمتاثرین کی مدد کرنی چاھیے‘۔

وینا ملک نے کہا کہ اسی لیے انہوں نے اپنی ذاتی آمدنی میں سے یہ رقم متاثرین کے لیے حکومت کو دی ہے تاکہ انڈسٹری کے دوسرے لوگ بھی ایسا کریں۔

وفاقی وزیر صحت اعجاز احمد جاکھرانی کی پریس کانفرنس

Tuesday 30 June 2009

 اسلام آباد ۔ 30 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر صحت اعجاز احمد جاکھرانی نے کہا ہے کہ نئی صحت پالیسی منظوری کیلئے جولائی کے آخر تک کابینہ میں پیش کر دی جائے گی، ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے سہ جہتی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، بیرونی دباﺅ کے باوجود سوات میں قیام امن کیلئے نظام عدل کو قبول کیا، عسکریت پسندوں کی جانب سے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے پر مجبوراً آپریشن شروع کیا، صدر آصف علی زرداری نے اس وقت بھی ملک کو بچایا جب محترمہ کو شہید کر کے ملک توڑنے کی سازش کی گئی اور اب بھی ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے کوشاں ہیں۔