ٹھٹہ: تباہی اور بربادی پھیلاتا سپر فلڈ زیریں سندھ سے گزر رہا ہے۔ کوٹری بیراج پر پونے نو لاکھ کیوسک کا ریلا، منارکی اور سورجانی بند پر دباوٴ، سجاول اور نواحی علاقوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔کوٹری بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ لاڑکانہ میں عاقل لوپ بند کے قریب کٹاوٴ شروع ہوگیا۔ہنگامی صورتحال کے پیش نظر فوج تعینات کر دی گئی۔ ٹھٹہ کے پندرہ دیہات زیر آب آگئے۔گیسٹرو اور حادثات میں چھ بچے جاں بحق ہو گئے۔
کوٹری بیراج پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد آٹھ لاکھ تہتر ہزار کیوسک سے بڑھ گئی ہے اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ ڈاوٴن اسٹریم میں سات لاکھ تیس ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ ٹھٹہ میں رات بھر طوفانی بارش اور دریائے سندھ کی تیز لہروں کے باعث سورجانی، منارکی اور سونڈا بند پر سخت دباوٴ بڑھ گیا ہے۔ سجاول اور نواحی علاقوں میں سخت خوف پایا جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔
سمندر کی اونچی لہروں اور سطح بلند ہونے کی وجہ سے دریائے سندھ کا ریلا سمندر میں گر نہیں رہا۔ پانی گھوڑا باری کے قریب کوٹری الچھ رکھیو شاہ میں داخل ہوگیا۔ جس سے خانو وسایو، آچر کلمتی، سمیت پندرہ سے زائد دیہات زیر آب آگئے۔ پانی میں پھنسے گیارہ سو افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ دیگر محصورین کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حیدرآباد میں بھی کچے کے علاقے زیر آب آگئے ہیں اور مکانات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
لطیف آباد نمبر دس کے بچاوٴ بند سے ملحقہ گلستان سرمت جانے والی شاہراہ کا ایک حصہ زیر آب آگیا۔ حسین آباد بند سے ملحقہ مہران پارک بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کشمور کے ریلیف کیمپوں میں صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے۔ گیسٹرو سے آج مزید چار بچے جان کی بازی ہار گئے، ضلع بھر میں ہلاکتوں کی تعداد تیس ہوگئی ہے۔ گھوٹکی کے علاقے موچکو میں پانی میں ڈوب کر دو بچے جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ اور قریبی علاقوں میں دریائے سندھ کے حفاظتی پشتوں پر دباوٴ اب بھی برقرار ہے۔ کئی مقامات پر بندوں سے رساوٴ جاری ہے۔ سیلاب کچے کے علاقوں کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا۔ پنو عاقل سے لے کر لاڑکانہ خیرپور پل، شیری، جونیجو اور گاڑی ڈیر کے حفاظتی پشتوں میں دراڑیں پڑنے کے باعث پانی رس رہا ہے۔
سیلاب سے منڑی غلام شاہ، فتح پور، فتح محمد اعوان، ڈیری، فرید آباد، گاجی ڈیرو کے علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔ علاقے میں موجود دس ہزار افراد محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ لاڑکانہ میں نئی خیمہ بستی قائم کی جا رہی ہے۔ ریلیف کیمپ میں جڑواں بہن بھائی سمیت تین بچوں کی پیدائش سے بے گھر والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ایک بچے کا نام پردیسی دریا اور جڑواں بچوں کے نام بے نظیر اور بلاول رکھے گئے ہیں۔





