کندیاں ۔ ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے کہا ہے کہ وہ براہ راست کسی سیاسی عمل کاحصہ نہیں بنیں گے اورنہ ہی کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں، تاہم اگر ملک وقوم کو میرے مشوروں کی ضرورت ہوئی تو اپنی استطاعت کے مطابق رہنمائی کیلئے حاضر ہوں، انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو آگے آنا چاہئے اور ملک وقوم کو موجودہ مشکلات سے نکالنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ میں یہ رواج نہیں کہ برسراقتدار آنے والے سابقہ حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنائیں لیکن ہمارے ہاں یہ غلط رسم ہے کہ اپنی صلاحیتوں کوآزمانے اور ملک وقوم کو مسائل ومشکلات سے نکالنے کے بجائے ہر برسراقتدار آنے والے حکمران سابقہ حکمرانوں کو اپنے دور اقتدار تک کوستے رہتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ نئے لوگ اور نئے چہرے آگے آئیں۔
رسالت
تصفح حسب التصنيف ...
کسی سیاسی عمل کاحصہ نہیں بنیں گے اورنہ ہی کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں، عبدالقدیرخان
Tuesday 7 June 2011بھارت نے پاکستان کو مطلوب براہمداغ بگٹی کے خلاف کارروائی تفصیلات کی فراہمی سے مشروط کر دی
Tuesday 7 June 2011
نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کو مطلوب براہمداغ بگٹی کے خلاف کارروائی تفصیلات کی فراہمی سے مشروط کر دی ہے۔ ذرائع کےمطابق نئی دہلی میں بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اگرپاکستان براہمداغ بگٹی سے متعلق تفصیلات فراہم کرے تو ان کی حکومت اقدامات کرے گی۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ان عناصر پرقابو پائےجو دہشتگردوں کی سر پرستی کر رہے ہیں۔ بھارتی حکام کا یہ بھی کہنا ہےکہ بھارت نےجتنےبھی ڈیم بنائے پاکستان کوآگاہ کیا۔ پاکستان پانی کےمسئلے پر پہلے اپنےاندرونی اختلافات ختم کرے۔
موسمی حالات آئندہ 24 گھنٹے میں سمندری طوفان کا اشارہ دے رہے ہیں۔
Tuesday 7 June 2011کراچی: بحیرہ عرب میں تبدیل ہونے والے موسمی حالات آئندہ 24 گھنٹے میں سمندری طوفان کا اشارہ دے رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف محکمہ موسمیات کی جانب سے کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ٹراپیکل سائیکلون وارننگ سنٹر سمندری طوفان بننے کے عمل کا بغور مشاہدہ کررہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔سمندر میں موجود ہوا کا کم دباؤکراچی کے ساحل سے 600 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ محکمہ موسمیات کے زرائع کے مطابق اس حوالے سے وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ تاہم ماہی گیر انجمنوں کا کہنا ہے کہ بر وقت اطلاعات نہ ملنے کے سبب بہت سے ماہی گیر ابھی بھی سمندر میں موجودہیں۔ جن سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ انھوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان ماہی گیروں کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے۔
الیاس کشمیری کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے، ۔ وزیرداخلہ رحمان ملک
Monday 6 June 2011
اسلام آباد ۔ وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ الیاس کشمیری کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے، پی این ایس مہران پر حملے کی تحقیقات پر بریفنگ آج منگل کو دی جائے گی، شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ مناسب وقت پر خود کرینگے، میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ القاعدہ اور طالبان ہمارے دوست نہیں ہیں، پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں، فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور ایجنسیاں روزانہ شہادتیں پیش کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو، افغانستان سے دہشتگرد اسلحہ کے ساتھ پاکستان میں آجاتے ہیں اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں تو پھر افغانستان چلے جاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ افغان صدر حامد کرزئی پاکستان آرہے ہیں، ان کے دورے میں یہ معاملہ اٹھائیں گے کہ وہ ان دہشتگردوں کو کیوں قابو نہیں کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ الیاس کشمیری کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی، ہم کسی ڈرون حملے کو اچھا نہیں سمجھتے،امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی جائے،ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ مناسب وقت پر خود کریں گے۔
غفور حیدری سینٹ میں نیا اپوزیشن لیڈر مقرر
Monday 6 June 2011
چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا غفور حیدری کو سینٹ میں نیا اپوزیشن لیڈر مقرر کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جبکہ نئے اپوزیشن لیڈر مولانا غفور حیدری کا کہنا تھا کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں ، حکومت کو من مانیاں نہیں کرنے دینگے ،(ن) لیگ اور جماعت اسلامی نے سینٹ میں ہماری اکثریت ماننے سے انکار کیا تھا ۔تفصیلات کے مطابق سینٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرکے تقرر کیلئے چیئرمین سینٹ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں تمام آئینی و قانونی امور کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سینٹ میں نئے اپوزیشن لیڈر مولانا غفور حیدری ہونگے جن کے 19ممبران سینٹ نے حمایت کی ہے جن میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے 12سینیٹرز ، فاٹا کے 5سینیٹرز سینیٹرز عبدالرشید، اویس صافی، حاجی خان ، انجینئر رشید اور عباس خان آفریدی شامل ہیں جبکہ بلوچستان کے 2 آزاد سینیٹرز عبدالقادر مگسی اور ولی محمد بادینی نے مولانا غفور حیدری کی حمایت میں ووٹ دیئے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز اسحاق ڈار کو صرف 15ووٹ ملے جن میں مسلم لیگ (ن) کے 7، جماعت اسلامی کے 3، نیشنل پارٹی کے 2،خیبر پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کا 1سینیٹرر شامل ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے عمل میں (ق) لیگ کے آزاد سینیٹرز کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے پہلے ہی اس حوالے سے اپنے تحریری موقف سے ہمیں آگاہ کردیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ (ق) لیگ کے اراکین کو آزاد سینیٹرز کی نشستیں الاٹ کی گئیں ہیں ۔ دوسری جانب نئے اپوزیشن لیڈر مولانا غفور حیدری کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینٹ کی جانب سے سینٹ میں نئے اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے جو فیصلہ آیا ہے وہ یقیناً انصاف اور جمہوری روایات کا آئینہ دار ہے جبکہ میری کوشش ہے کہ ایوان بالا میں جتنی بھی اپوزیشن جماعتیں ہیں ان کو ساتھ لے کر آگے بڑھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر آگے بڑھیں اورایک قوت بن کر حکومت کو بہت سارے ایشوز پر من مانی کرنے سے روکیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ (ق) لیگ کی حکومت میں شمولیت کے بعد سینٹ میں جے یو آئی (ف) واحد اپوزیشن جماعت تھی جو اکثریت میں تھی اور اس حوالے سے (ن) لیگ اور جماعت اسلامی کے دوستوں کے پاس بھی گئے تاہم انہوں نے ہمیں تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور ہمارے مقابلے میں آئے تھے ۔
امریکی سفارتخانہ نے پشاور اور نوشہرہ میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت
Monday 6 June 2011
اسلام آباد ۔ امریکی سفارتخانہ نے پشاور اور نوشہرہ میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں ‘ یہاں جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ معصوم افراد کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا امریکہ ملک کو خوف اور انتہا پسندانہ تشدد سے پاک کرنے کیلئے پاکستانی عوام کی جدوجہد میں ان کی مدد جاری رکھے گا۔
سیلاب کے دوران سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کا ہوا ہے۔ کمیشن رپورٹ
Monday 6 June 2011
سپریم کورٹ نے سیلاب کے دوران بند توڑنے کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سیلاب کے دوران سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کا ہوا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ میں بدانتظامیوں اور بدعنوانیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں دی گئی منڈاڈیم کی سفارشات کو سنجیدگی سے لیا جائے ۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی توسپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیئے گئے چار رکنی کمیشن نے ملک کے بدترین سیلاب کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے بچائو کے لئے حکومتی سطح پر کوئی اقدامات نہ کئے گئے تمام محکمے غفلت کے مرتکب ہوئے ،محکمہ موسمیات نے بھی سیلاب کی پیشگی اطلاع نہ دی، سب سے زیادہ نقصان کچے کے علاقے میںتجاوزات کی وجہ سے ہوا ۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ گدو بیراج کے چیف انجینئر اور چیف سیکرٹری آبپاشی سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی کے ذمہ داروں سے عدالتی نگرانی میں تفتیش کی جائے، اس طرح خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں موٹر وے کے باعث دریائوں کے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ پیدا ہوئی، اگر منڈا ڈیم بن چکا ہوتا تو خیبر پختونخواہ میں تباہی نہ آتی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توری بند توڑنے کے شواہد نہیں ملے بلکہ پانی کے بہائو سے بند ٹوٹا، اس طرح متعلقہ محکموں کی غفلت کے باعث حفاظتی بند اور پشتے بھی سیلاب کو نہ روک سکے کیونکہ عرصہ دراز سے ان کی کوئی نگہداشت نہیں کی گئی تھی کچے کے علاقے میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر بااثر افراد کا قبضہ ہے جس سے عام لوگ اور ان کی زمینیں بہت متاثر ہوئیں، رپورٹ میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتایا گیا کہ سیلاب کے نتیجے میں 1600 جانیں ضائع ہوئیں جبکہ معیشت کو 855 ارب روپے کا نقصان ہوا، قدرتی آفات کیلئے بتایا گیا محکمہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی سیلاب کے دوران اپنے فرائض سرانجام دینے میں مکمل ناکام رہا رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ دریائوں کے کنارے سے تجاوزات کو ہٹایا جائے۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بیراج اور ہیڈ اگر مناسب اور موزوں مقامات پر بنائے جائیں تو سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی شرح کم ہوسکتی ہے ۔ کمیشن نے سرکاری اراضی پر قائم تعمیرات اور تجاوزات جو سیلاب کے باعث تباہ ہوچکی ہیں کو دوبارہ تعمیر ہونے دینے کی سفارش کی ہے ۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ سیلاب کے باعث عام لوگوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے کمیشن نے بدعنوانیوں اور بدانتظامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے منڈا ڈیم کی سفارشات کو سنجیدگی سے لینے کی ہدایت کمیشن کی رپورٹ پر عدالتی احکامات منگل کو جاری کئے جائیں گے۔
گوادر سے متعلق چین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ،یوسف رضا گیلانی
Monday 6 June 2011
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ گوادر سے متعلق چین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ، گوادر پورٹ کے معاہدے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہے، پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہیلری کو بتادیا ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد روانگی سے قبل کوئٹہ ائیر پورٹ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیر اعظم یوسف رضا کا کہنا تھا کہ سیاسی وجمہوری حکومت بلوچستان کے احساس محرومی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے ،چین کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ضرور ہیں لیکن گوادر پورٹ کے حوالے سے چین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ صوبائی حکومت کا مسئلہ ہے ،ماضی میں بھی سنگا پور پورٹ اتھارٹی کے ساتھ معاہدئہ صوبائی حکومت نے کیا ،اب بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت مکمل طور پر با اختیار ہیں، وہ صوبے کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے معاہدئہ کرسکتے ہیں، بلوچستان کے احساس محرومی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے حکومت سنجیدگی سے کوشاں ہے، یہاں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا ہے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو کم کیا جائے اور یہاں زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈ ی کے لئے بھی صوبائی حکومت سے بات ہوچکی ہے، تین ارب روپے صوبائی جبکہ چار ارب روپے وفاقی حکومت دیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور بیس ہزار ملازمتوں کی فراہمی کے وعدے پر قائم ہوں بلکہ اس پرعملدرآمد کریں گے اور بلوچستان میں وسائل کی تلاش نئے منصوبوں کے لئے لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا اور وفاقی محکموں میں ملازمتوں کے صوبائی کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے نادرا اور وفاقی وزارت داخلہ سمیت دیگر محکموں میں عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایات کردیا،انہوں نے لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ لاپتہ افراد کے لئے دو کمیشن تشکیل دیئے گئے ہیں جو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ،اس وقت صرف 38افراد لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری ہیں اس لئے مزید کوئی بھی کمیشن تشکیل دینے کی ضرورت نہیں اگر کسی کے پاس کوئی شواہد ہیں تو وہ کمیشن کے سپرد کرے اور کمیشن اس پر جو بھی کارروائی کرے گا اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم گیلانی
Monday 6 June 2011
کوئٹہ: وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نےکہا ہےکہ وسیع تر قومی مفاد میں ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں کوئی ایک جماعت ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتی۔ ملکی حالات کےپیش نظر تمام جماعتوں کو ملکر کام کرنا چاہئے ہر ماہ بلوچستان کا دورہ کرونگا جبکہ کابینہ کا آئندہ اجلاس کوئٹہ میں ہوگا۔ بلوچستان کی ترقی کیلئے تمام وسائل استعمال کئےجائیں گے۔ ہم نےہمیشہ مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا ڈکٹیٹروں نےآئین کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ پیپلز پارٹی نےآئین کو بحال کیا انقلاب کی باتیں کرنےوالے کچھ نہیں کرسکتے۔ افغانستان سےغیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے اپنےدورہ کوئٹہ کے موقع پر کوئٹہ میں امن وامان کےحوالے سےاعلیٰ سطح کےاجلاس کی صدارت کرتے ہوئےاور پیپلز پارٹی کے ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور امن وامان کی بہتری کے لئے وفاق اور صوبے کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نےکہا کہ وہ اس مقصد کیلئےخود ہر ماہ بلوچستان کا دورہ کریں گے اور وفاقی کابینہ کا آئندہ اجلاس بھی کوئٹہ میں ہوگا۔ وزیراعظم نےکہا کہ ایک وفاقی وزیر بھی ہر ماہ بلوچستان کا دورہ کرے گا تاکہ وفاق اور صوبائی اداروں میں ہم آہنگی بہتر کی جاسکے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور صوبائی حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن وامان کی بہتری کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ اس مقصد کیلئے وفاقی حکومت بلوچستان کے پولیس اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے انہیں جدید تربیت فراہم کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آغاز حقوق بلوچستان کے تمام وعدوں پر مکمل عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نےصوبائی حکومت پر زور دیا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی بجائے افتتاح کیا جائےاور جاری منصوبوں کو ہر وقت مکمل کیا جائےتاکہ ان کے فوائد عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ افغانستان سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔ انہوں نےبلوچستان میں لاپتہ افراد کی تلاش کے حوالے سے جاری کوششوں اور پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ باقی ماندہ لاپتہ افراد کو جلد تلاش کر لیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے 2 ارب روپےفراہم کرنے کا اعلان کیا جس میں ایک ارب وفاقی حکومت اور ایک ارب روپے وزارت داخلہ فراہم کرے گی۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں سے سبسڈی دینے کے حوالے سے کہا کہ اس بارے میں 4 ارب روپےوفاقی حکومت اور 3 ارب روپے صوبائی حکومت فراہم کرے گی تاکہ کسانوں کو ٹیوب ویلوں پر رعایت دی جاسکے۔ اس موقع پر وزیراعظم کو صوبےمیں امن وامان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملکر امن وامان یقینی بنانےکیلئےکام کریں گی۔
امریکا نے افغانستان میں سپلائی کے لیے پاکستان پر انحصار کم کردیا ہے۔
Monday 6 June 2011
اسلام آباد: سابق سی آئی اے عہدے داربروس ریڈل نے کہا ہےکہ امریکا نے افغانستان میں سپلائی کے لیے پاکستان پر انحصار کم کردیا ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکی محور کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان اور امریکا کے درمیان زیادہ فاصلے پیدا ہوسکتے ہیں اور یہ صورت حال واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بہت قریبی تعلقات پیدا کر سکتی ہے۔ اسلام آباد نے واضح اشارہ بھیج دیا ہے کہ انہوں نے دیگر ممالک اور لوگوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی اخبارکے مطابق اسامہ کی ہلاکت کے بعد وائٹ ہائوس نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں یہ سوچ پختہ ہوگئی ہے کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط نہیں رہیں گے۔ گزشتہ ایک دہائی سے قائم الجھے ہوئے تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کی اب ضرورت ہے۔ اب میدان میں کھیل کی نئی چالیں ہیں سرد جنگ کے بعد کئی دہائیوں تک سوویت یونین کے پھیلائو کے خدشےنے امریکا اور پاکستان کو جوڑے رکھا۔ جب وہ خدشات گزر گئے تو ان دونوں ممالک کے درمیان تعلق ختم ہوگیا۔ اسی طرح افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان اور امریکا کے درمیان زیادہ فاصلے پیدا ہوسکتے ہیں اور واشنگٹن اور نئی دہلی کےدرمیان تعلقات پیدا کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ سابق سی آئی اے عہدے دار بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ امریکا نے افغانستان میں سپلائی کے لیے پاکستان پر انحصار کم کر دیا ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکی محور کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔ اگر امریکا اور بھارت قریب آگئے تو پھر اسلام آباد قدرتی طور پر چین اور سعودی عرب کے قریب جائے گا۔ افغانستان میں جنگ کے خاتمے پر پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اخبار کےمطابق امریکا کے پاکستان کے ساتھ تشویش ناک تعلقات ایک طویل عرصے سے پیشہ ورانہ کشتی میچ کی طرح ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں امریکا کے ساتھ تعلقات میں تنائو کےبعد پاکستانی حکام نےایشیاء میں امریکا کے سب سے بڑے حریف چین کے ساتھ قربتیں بڑھائیں۔ ایبٹ آباد واقعے کے فوری بعد پاکستانی حکام نے بیجنگ کا سفر کیا اور اپنے چینی بھائیوں سے کہا ہے کہ بحیرہ عرب پرا سٹریٹجک بندرگاہ کو آپریٹ کریں۔ انہوں نےکہا کہ چین کی بحریہ کے لیےدونوں ممالک پاکستان میں تیل کی پائپ لائنوں، ریلوے لائنیں اورفوجی اڈے قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ پاکستانی حکام پہلے ہی افغانستان کو مشورہ دے چکےتھے کہ وہ امریکا کی بجائے چین کے ساتھ تعلقات بنائیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان چین کا اہم اتحادی ہےاگر امریکا نےساتھ چھوڑا تو چین معاشی مدد کرے گا۔ لہذا امریکا کسی بھی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔