سائنس‬

تصفح حسب التصنيف ...

 

سبزی خوروں میں کینسر کم ہوتا ہے

Thursday 2 July 2009

090701131714_vegetables226وسیع پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گوشت کھانے والوں کے مقابلے میں سبزیاں کھانے والوں کو بعض اقسام کے سرطان کے لاحق ہونے کا خدشہ کم ہوتا ہے۔

برٹش جنرل آف کینسر میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں ساٹھ ہزار افراد شریک ہوئے۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ صرف سبزیاں کھاتے تھے ان میں خون، مثانے اور معدے کا کینسر کم دیکھنے میں آیا۔

تاہم یہ فرق آنت کے معاملے میں نہیں پایا گیا۔ آنت کینسر اموات کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔

یہ تحقیقی ٹیم برطانوی اور نیوزی لینڈ کے ماہرین پر مشتمل تھی جنہوں نے اکسٹھ ہزار سے زیادہ برطانوی مرد و خواتین کے کھانے کی عادات کا مطالعہ کیا۔ شرکاء میں گوشت کھانے والے، صرف مچھلی کھانے والے اور صرف سبزیاں کھانے والے شامل تھے۔

مجموعی نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ بالعموم عام لوگوں میں ایک سو افراد میں سے تینتیس کو زندگی میں کینسر لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے تاہم جو لوگ گوشت نہیں کھاتے ان کے لیے یہ خطرہ کم ہوکر انتیس فی صد رہ جاتا ہے۔

نتائج کا یہ فرق معدے کے سرطان میں زیادہ نمایاں تھا جہاں گوشت کھانے والوں کے مقابلے میں سبزی خوروں اور مچھلی کھانے والوں میں معدے کے کینسر کا خطرہ ایک تہائی کم تھا۔

معدہ کے سرطان کے بارے میں اس سے قبل کے مطالعوں میں ایسے ہی نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ خیال ہے کہ گوشت کے اندر ایک خاص کیمیائی مادہ ہوتا ہے جو سرطان کا سبب بنتا ہے۔

تاہم تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ’ٹِم کی‘ کا کہنا ہے کہ اس ایک مطالعے کی بنیاد پر حتمی نتائج مرتب نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا کہنا ہے: ’سرِدست یہ شواہد اتنے قوی نہیں کہ لوگوں کو اپنے غذائی معمولات کو تبدیل کرنے کو کہا جائے، بالخصوص ان لوگوں کو جو متوازن غذا کھاتے ہیں۔‘

کینسر ریسرچ یوکے نے، جس نے اس تحقیق کے لیے رقم فراہم کی، کہا کہ نتائج دلچسپ ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ خوراک ہماری صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر صحت اعجاز احمد جاکھرانی کی پریس کانفرنس

Tuesday 30 June 2009

 اسلام آباد ۔ 30 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر صحت اعجاز احمد جاکھرانی نے کہا ہے کہ نئی صحت پالیسی منظوری کیلئے جولائی کے آخر تک کابینہ میں پیش کر دی جائے گی، ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے سہ جہتی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، بیرونی دباﺅ کے باوجود سوات میں قیام امن کیلئے نظام عدل کو قبول کیا، عسکریت پسندوں کی جانب سے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے پر مجبوراً آپریشن شروع کیا، صدر آصف علی زرداری نے اس وقت بھی ملک کو بچایا جب محترمہ کو شہید کر کے ملک توڑنے کی سازش کی گئی اور اب بھی ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے کوشاں ہیں۔