نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
پشاور : سٹی مال روڈ پشاور پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے چھاپہ مار کر متاثرین کا امدادی سامان فروخت کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔ تین ٹرک امدادی سامان قبضے میں لے کر چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دی گئی کہ متاثرین سیلاب کے لیے فراہم کی گئی اشیائے خورد و نوش کو بلیک منڈی میں فروخت کیا جارہا ہے۔ جس پر انتظامیہ نے ضلع بھر میں چھاپے مارنے شروع کردیئے۔ سٹی مال روڈ پر کارروائی کے دوران تین ٹرک امدادی سامان برآمد کرلیا۔ چار ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔ برآمد کیے گئے امدادی سامان میں گھی، آٹا، چاول، چینی، پانی، دال اور دیگر غذائی اجناس شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گودام ایک سیاسی جماعت کے رہنما کی ملکیت ہے۔ ڈی سی او سراج خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ تفتیش جاری ہے اور اصل ملزمان تک رسائی حاصل کرلی جائے گی۔ ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ گرفتار شدگان میں حنیف، معظم بٹ، راحت اور عثمان شامل ہیں۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
کراچی: کراچی میں پولیس اہلکاروں کی عوام سے لوٹ مار نئی بات نہیں لیکن اس بار بے حسی حد سے بڑھ گئی۔ عوام کے محافظوں نے سیلاب متاثرین کو بھی نہ بخشا۔ کراچی پولیس نے سیلاب متاثرین کو لوٹنے والے پانچ اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے کون واقف نہیں۔ لاکھوں گھر تباہ ہوئے۔ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔ لوگ محفوظ مقام تک تو پہنچے۔ لیکن آج بھی امداد کے منتظر بے یاروں مددگار پڑے ہیں۔ بہت سے اپنا مال مویشی فروخت کرکے اپنی مدد آپ میں جتے ہیں۔
ایسے ہی خاندان کے چند لوگ کراچی میں سستے داموں مال مویشی فروخت کرکے واپس لوٹ رہے تھے کہ لی مارکیٹ پر پولیس کے ہتے چڑھ گئے۔ پولیس نے تلاشی کے بہانے ان کی تمام جمع پونجی لوٹ لی اور چلتے بنے۔ اطلاع ملنے پر ایس پی لیاری ٹاؤن لی مارکیٹ پہنچے اور ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حرکات و سکنات کا جائزہ لیا اور انہیں موقع پا کر بھتہ لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ پکڑے جانے والے پولیس اہلکاروں میں ہیڈ کانسٹیبل ظفر اقبال، پولیس کانسٹیبل غلام حسین، نجب خان، محمد اکرم اور ظفر اقبال شامل ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا کسی جرم میں پکڑے جانا کوئی نئی بات نہیں۔ ایسے جرم کی قرار واقعی سزا ملنا سیلاب متاثرین سے انصاف ہوگا۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ٹیم کی سلیکشن درست ہوتی تو پاکستان چار میں سے تین ٹیسٹ جیت سکتا تھا ، سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر نے انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ میں پاکستان کی کامیابی کو ٹیم سپرٹ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
فیصل آباد: فیصل آباد کے نوجوانوں نے ایک ایسا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تیار کیا ہے جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بغیر بھی کام کر سکتا ہے۔ واٹر فلٹر کمپنی میں کام کرنے والے ان نوجوانوں نے سیلاب زدہ علاقوں میں پینے کے پانی کو قابل استعمال بنانے کے لئے یہ ٹریٹمنٹ پلانٹ خصوصی طور پر بنایا ہے،اڑھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ واٹر پلانٹ بجلی کے ساتھ ہاتھ سے بھی چلایا جاسکتا ہے اور سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی پر یہ با آسانی کام کر سکتا ہے۔
ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں دس ٹریٹمنٹ پلانٹ سیلاب زدہ علاقوں میں مفت لگائے جائیں ی گے۔ ان پلانٹس کی تنصیب سے متاثرہ علاقوں میں گندے پانی سے پھیلنے والے امراض پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
حافظ آباد: حافظ آباد میں گھریلو جھگڑے پر نوجوان نے والدین, بھائی بہن اور بھانجی پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ پولیس کے مطابق واقعہ حافظ ایباد کے علاقے سراج گنج میں پیش آیا، جہاں شفیق الرحمٰن اور اس کی بیوی کا اہل خانہ سے کسی بات پر جھگڑا ہوگیا، جس پر ملزم نے طیش میں آ کر صحن میں بیٹھے ہوئے اپنے والد عبدالرشید، والدہ کنیز فاطمہ، بھائی عتیق، بہن ریحانہ اور پانچ سالہ بھانجی زینت پر پٹرول چھڑک کر ایگ لگا دی ، جس سے وہ بری طرح جھلس گئے۔
ملزم گھر کا دروازہ بند کر کے فرار ہوگیا۔ اہل محلہ نے چیخ و پکار سن کر ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کی مدد سے انہیں ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا، جہاں ریحانہ اور زینت کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کر دیئے ہیں۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ بڑے بڑے سیاستدان میوزیکل چیئرز کا گیم کھیل رہے ہیں، متوسط طبقے کو حکمرانی کا حق نہیں دیا گیا۔ لعل قلعہ گراؤنڈ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے جنرل ورکرز اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب کے دوران الطاف حسین نے کہا کہ دو ہزار پانچ کے زلزلے میں پاکستان کو اربوں، کھربوں روپے امداد کی مد میں ملے، امداد میں ملنے والی رقم کا موثر استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔ہر مشکل وقت میں پاک فوج نے قربانیاں دیں۔
الطاف حسین نے کہا کہ ہمیشہ سچ اور حق بات کہتا ہوں، بڑے بڑے سیاستدان میوزیکل چیئرز کا گیم کھیل رہے ہیں۔ ملک کو دولخت کرنے والے باقی ماندہ وطن کے ٹکڑے کرنے پر بضد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی انتہائی ناقص ہے، کیا ہم نے کبھی جائزہ لیا کہ کیا ہماری خارجہ پالیسی آزاد ہے۔ انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا ہم ہمیشہ جاگیرداروں کے پیر چھو کر زندگی گزارتے رہیں گے۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
سکھر: کوٹری بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ مٹھی میں زمیندار نے بند پر پانچ فٹ چوڑا شگاف لگا دیا جس سے قریبی دیہات زیر آب آ گئے۔ گیسٹرو سے جاں بحق افراد کی تعداد سات ہوگئی۔ دریائے سندھ میں بڑا آبی ریلا گڈو اور سکھر بیراج سے ہوتا ہوا کوٹری بیراج پہنچ رہا ہے۔ اس وقت وہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ نو لاکھ کیوسک کا ریلا بھی گزر سکتا ہے۔ اس وقت کوٹری بیراج پر پانی کی آمد آٹھ لاکھ پچاس ہزار کیوسک سے بڑھ گئی ہے۔ سکھر اور گڈو بیراج پر پانی کی سطح میں کمی آئی ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد سات لاکھ نواسی ہزار اور سکھر بیراج پر پانی کی آمد آٹھ لاکھ بانوے ہزار ہے۔
ٹنڈو محمد خان میں ملا کاتیار بند سے سات لاکھ اٹھانوے ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ مٹھی میں ایل بی او ڈی بند پر زمیندار نے پانچ فٹ چوڑا شگاف لگا دیا جس سے قریبی دیہات زیر آب آگئے۔ شہداد کوٹ کو بچانے کی کوششیں موثر ثابت نہیں ہو رہیں۔ انڈس ہائی وے پر حفاظتی بند میں شگاف پڑنے سے گاوٴں محمد یوسف مگسی، عید محمد درائی، لطیف چانڈیو اور کنل خان چانڈیو زیر آب آ گئے۔ پانی کے دباوٴ سے پانچ عارضی واٹر کورس کے دہانے چوڑے ہوگئے۔ شہداد کوٹ کی پچانوے فیصد آبادی نقل مکانی کر گئی ہے۔
ٹھٹہ کے مقام پر دریائے سندھ میں ساڑھے سات لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ ٹنڈو حافظ شاہ کے قریب پانی کے بی فیڈر میں داخل ہوگیا۔ گاوٴں راجو نظامانی میں پانی داخل ہونے کے بعد لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ منارکی اور سورجانی بند پر شدید دباوٴ ہے۔ سیلاب سجاول اور بیلو شہر میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ سونڈا بند میں شگاف ڈال کر پانی کا رخ آر بی او ڈی کنال کی جانب موڑا دیا گیا۔
لاڑکانہ میں سیری، جونیجو اور گاجی ڈیرو کے حفاظتی پشتوں سے رساوٴ جاری ہے۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت رساوٴ بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آمری اور سن کے قریب مرکزی ریلوے ٹریک زیر آب آنے کے بعد لاڑکانہ کا کراچی سے براہ راست ریل رابطہ منقطع ہوگیا۔ متاثرین کیلئے لاڑکانہ سے چلنے والی ٹرینیں روہڑی کے راستے کراچی پہنچ رہی ہیں۔ لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو اور گاوٴں شاہ بیگ جمالی میں گیسٹرو سے تین لڑکیاں جاں بحق ہوگئیں۔ لاڑکانہ میں سیلاب متاثرین کو رتو ڈیرو جیکب آباد روڈ پر لوٹ لیا گیا۔ جیکب آباد میں ٹھل کے قریب گیسٹرو سے دو بچے جاں بحق ہوگئے۔ جامشورو میں سیہون ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قریب ریلیف کیمپ میں بچی گیسٹرو سے چل بسی۔
گھوٹکی میں گیسٹرو تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پانچ روز میں جاں بحق افراد کی تعداد دس ہوگئی۔ محکمہ صحت کی جانب سے اس وباء کو کنٹرول کرنے کے مناسب اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ متاثرین کا شکوہ ہے محکمہ صحت انتہائی کم معیار کی دوائیں فراہم کر رہا ہے۔ دوسری جانب آبی ریلے می آج ایک اور بچہ ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ گھوٹکی کے علاقے ماچکو میں آبی ریلے میں ڈوب کر ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ تین افراد کو بچالیا گیا۔ نوشہروفیروز میں بھی آبی ریلے میں ڈوب کر نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا۔ سکھر میں گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج کے ریلیف کیمپ میں سیلاب سے متاثر خاتون زچگی کے دوران جاں بحق ہوگئی۔ لاڑکانہ کے نیو بس اسٹینڈ کیمپ میں تین سو سے زائد خواتین حاملہ ہیں۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
لاہور: پاکستان ریلوے کے انجن ڈرائیوروں نے آج رات بارہ بجے سے ان فٹ انجن استعمال کرنے سے انکار کرتے ہوئے گو سلو پالیسی شروع کر دی۔ ریلوے انتظامیہ اور ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ناکام ہوگیا۔ لاہور میں ریلوے انجن ڈرائیوروں کی ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے بتایا کہ چھ ٹریکشن موٹروں کے حامل انجنوں میں صرف دو دو موٹریں رہ گئی ہیں اور ایک انجن فیل ہونے پر ٹرین کئی کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روزانہ چلنے والی اک سو اسی مسافر ٹرینوں میں سے ایک سو کے انجن سیفٹی اور کارکردگی کے لحاظ سے ٹریک پر چلنے کے قابل نہیں۔ ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں محکمے کے ایڈیشنل جی ایم ٹریفک امین خالد اور دیگر حکام کے ساتھ ایسوسی ایشن کے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے ہیں، اور کراچی اور لاہور سے چلنے والی ملت ایکسپریس، جعفر ایکسپریس، قراقرام ایکسپریس، پاکستان ایکسپریس اور دیگر ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوگئی ہیں۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
حیدرآباد: وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ نے کہا ہے سیلاب سے صوبے میں سینتیس لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں یہاں سب سے زیادہ رقبہ متاثر ہوا۔ کوٹری بیراج کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں قائم علی شاہ نے کہا کہ سیلاب سے سندھ کا آٹھ سو پچھتر میل رقبہ متاثر اور چالیس ارب روپے کا نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کوٹری بیراج کی حالت بہتر ہے۔ نو لاکھ کیوسک کا ریلا گزر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں بند کی کمزوری کی شکایات ملی ہیں اسے چیک کیا جارہا ہے۔ عوام کی جان کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو کراچی اور خیرپورمیں بہتر سہولت میسر ہے۔ عوام کے دکھ کا اظہار لفظوں میں ممکن نہیں۔ نقصانات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »
نشر من طرف shahzad في 22 August 2010
اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں عالمی برادری کی طرف سے حوصلہ افزاء رد عمل ملا ہے۔ دو روزہ اجلاس میں آٹھ سو پندرہ ملین ڈالر امداد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر دفتر خارجہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا کو اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان میں سیلاب سے کس قدر تباہی ہوئی ہے۔ دو روز جاری رہنے والے اقوام متحدہ کے اجلاس میں تہتر ممالک نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چار سو نوے ملین ڈالر کی امداد اقوام متحدہ کے پاس آچکی ہے جبکہ تین سو پچیس ملین ڈالر کے مزید وعدے کیے گئے ہیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پوری دنیا سے مدد کی اپیل کی تھی۔ بھارت کی طرف سے امداد کی پیش کش مثبت ہے۔ یہ انسانی زندگیاں بچانے کا وقت ہے سیاست کو سائیڈ پر رکھنا چاہیے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ یورپین یونین کے ستائیس ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اگلے ماہ کی دس اور گیارہ تاریخ کو ہوگا جس میں سیلاب متاثرین کی امداد بھی ایجنڈے کا حصہ ہوگی۔ جرمنی پاکستان کو یورپی منڈیوں تک رسائی دلانے کیلئے کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چودہ اور پندرہ اکتوبر کو برسلز میں فرینڈز آف پاکستان کا اجلاس ہو گا جس میں متاثرین سیلاب کی امداد پر غور ہو گا۔ اسی طرح اقوام متحدہ میں انیس ستمبر کو وزارتی اجلاس میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائیگا۔
نشر تحت رسالت | أكتب تعليقا »